تحفۂ گولڑویہ — Page 137
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۳۷ تحفہ گولڑویہ ☆ ۱۳۰۰ جس پر خدا کی طرف سے وحی نازل نہیں ہوئی اور اس طریق سے آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِة احدا کی تکذیب کر دیوے۔ غرض جبکہ ان تمام طریقوں سے اِس حدیث کی صحت ثابت ہو گئی اور نیز اس کی پیشگوئی اپنے پورے پیرایہ میں وقوع میں بھی آگئی تو اے خدا سے ڈرنے والو ! اب مجھے کہنے دو کہ ایسی حدیث سے انکار کرنا جو گیارہ سو برس سے علماء اور خواص اور عوام میں شائع ہو رہی ہے اور امام محمد باقر اس کے راوی ہیں اور تیرہ سو برس سے یعنی ابتدا سے آج تک کسی نے اس کو موضوع قرار نہیں دیا۔ اور نہ دار قطنی نے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا اور قرآن آیت جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ میں اس کا مصدق ہے یعنی اسی گرہن سورج اور چاند کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے اور نیز قرآن کے صاف اور صریح لفظوں میں فرماتا ہے کہ کسی پیشگوئی پر جو صاف اور صریح اور فوق العادت طور پر پوری ہوگئی ہو بجز خدا کے رسول کے اور کوئی شخص قادر نہیں ہو سکتا۔ ایسا انکار جو عناداً کیا جائے ہرگز کسی ایماندار کا کام نہیں۔ دوسرا اعتراض مخالفین کا یہ ہے کہ یہ پیشگوئی اپنے الفاظ کے مفہوم کے مطابق پوری نہیں ہوئی کیونکہ چاند کا گرہن رمضان کی پہلی رات میں نہیں ہوا بلکہ تیرھویں رات میں ہوا اور نیز سورج کا گرہن رمضان کی پندرھویں تاریخ نہیں ہوا بلکہ ۲۸ تاریخ ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گرہن کے لئے کوئی نیا قاعدہ اپنی طرف سے نہیں تراشا بلکہ اسی قانون قدرت کے اندر اندر گرہن کی تاریخوں سے خبر دی ہے جو خدا نے ابتدا سے سورج اور چاند کے لئے مقرر کر رکھا ہے اور صاف لفظوں میں فرما دیا ہے کہ سورج کا کسوف اس کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا اور قمر کا خسوف اس کی پہلی رات میں ہو گا یعنی ان تین راتوں میں سے جو خدا نے قمر کے گرہن کے لئے مقرر فرمائی ہیں پہلی رات میں خسوف ہوگا الجن : ۲۷ ۲ القيامة : ١٠ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے کے زائد ہے۔(ناشر)