تحفۂ گولڑویہ — Page 87
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۸۷ تحفہ گولڑو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي بجواب پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی أَرَعَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهِ " وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايَتِهِ * ناظرین کو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے اشتہار مورخہ ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ء میں پیر مہر علی صاحب گولڑوی کی اس بنا پر ایک اعجازی مقابلہ کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ دوسرے علماء پنجاب اور ہندوستان کی طرح میرے دعوے کے مکذب ہیں اور میری وہ تین سے زیادہ کتا بیں جو میں نے اپنے دعوے کے اثبات میں تالیف کر کے ملک میں شائع کی ہیں وہ ثبوت اُن کے لئے کافی نہیں ہے اور نیز وہ تمام مناظرات اور مباحثات جو اُن کے ہم عقیدہ علماء سے آج تک ہوتے رہے وہ بھی اُن کے نزدیک نظری ہیں تو اب آخری فیصلہ یہ ہے کہ وہ سنت قدیمہ اکابر اسلام کے ☆ رو سے پر کا سے اس طرح پر ایک مباہلہ کی صورت پر مجھ سے مقابلہ کر لیں کہ قرآن شریف کی چالیس آیتیں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے نکال کر اور یہ دعا کر کے کہ جو شخص حق پر ہے اُس کو اِس ۔ اس قسم کا مقابلہ کو حقیقی طور پر مباہلہ نہیں کیونکہ اس میں لعنت نہیں اور کسی کے لئے عذاب کی درخواست نہیں اسی لئے ہم نے اس کا نام اعجازی مقابلہ رکھا تا ہم مباہلہ کے اغراض نرم طور پر اس میں موجود ہیں جو خدا کے فیصلہ کے لئے کافی ہیں۔ منہ ا حم السجدة : ۵۳ الانعام : ۲۲