تریاق القلوب — Page 618
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۱۸ روئداد جلسه دعا L بتلانا چاہتا ہوں کہ پہلے اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے رَبِّ الناس فرمایا پھر ملک الناس ۔ آخر میں اله الناس فرمایا جو اصلی مقصود اور مطلوب انسان ہے ۔ اللہ کہتے ہیں معبود - مقصود - مطلوب کو ۔ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کے معنی یہی ہیں کہ لَا مَعْبُوْدَ لِیْ وَلَا مَقْصُوْدَ لِي وَلَا مَطْلُوْبَ لِي إِلَّا الله یہی سچی توحید ہے کہ ہر مدح وستایش کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی کو ٹھہرایا جاوے ۔ پھر فرمایا مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ یعنی وسوسه ڈالنے والے خنّاس کے شر سے پناہ مانگو ۔ خنّاس عربی میں سانپ کو کہتے ہیں جسے عبرانی میں نحاش کہتے ہیں اس لئے کہ اس نے پہلے بھی بدی کی تھی ۔ یہاں ابلیس یا شیطان نہیں فرمایا تا کہ انسان کو اپنی ابتدا کی ابتلا یاد آوے کہ کس طرح شیطان نے اُن کے اَبَوَيْن کو دھوکا دیا تھا اس وقت اس کا نام خناس ہی رکھا گیا تھا یہ ترتیب خدا نے اس لئے اختیار فرمائی ہے تا کہ انسان کو پہلے واقعات پر آگاہ کرے کہ جس طرح شیطان نے خدا کی اطاء اطاعت سے انسان کو فریب دے کر روگرداں کیا ویسے ہی وہ کسی وقت ملک وقت کی اطاعت سے بھی عاصی اور روگرداں نہ کرادے۔ یوں انسان ہر وقت اپنے نفس کے ارادوں اور منصوبوں کی جانچ پڑتال کرتا رہے کہ مجھ میں ملك وقت کی اطاعت کس قدر ہے اور کوشش کرتا رہے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتا ر ہے کہ کسی مدخل سے شیطان اُس میں داخل نہ ہو جائے ۔ اب اس سورۃ میں جو اطاعت کا حکم ہے وہ خدا تعالیٰ ہی کی اطاعت کا حکم ہے کیونکہ الناس : ۵