تریاق القلوب — Page 607
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۰۷ رونداد جلسه دعا سے جو وقتاً فوقتاً انہوں نے مختلف موقعوں پر کی ہیں صاف معلوم ہو گیا ﴿۱۵﴾ ہے کہ وہ مذہبی مکانات کی کیسی عزت کرتے ہیں پھر دیکھو کہ گورنمنٹ نے کہیں منادات نہیں کی کہ کوئی بآواز بلند بانگ نہ دے یا روزہ نہ رکھے بلکہ انہوں نے ہر قسم کے تغذیہ کے سامان مہیا کئے ہیں جس کا سکھوں کے ذلیل زمانہ میں نام ونشان تک نہ تھا ۔ برف سوڈا واٹر اور بسکٹ ڈبل روٹی وغیرہ ہر قسم کی غذا ئیں بہم پہنچا ئیں اور ہر قسم کی رکھی ہے ۔ یہ ایک ضمنی امداد ہے جو اِن لوگوں سہولت دے سے ہمارے شعائر اسلام کو پہنچی ہے ۔ اب اگر کوئی خود روزہ نہ رکھے تو یہ اور بات ہے افسوس کی بات ہے کہ مسلمان خود شریعت کی توہین کرتے ہیں ۔ چنانچہ دیکھو جنہوں نے اِن دنوں روزے رکھے ہیں ۔ وہ کچھ دبلے نہیں ہو گئے اور جنہوں نے استخفاف کے ساتھ اس مہینہ کو گزارا ہے وہ کچھ موٹے نہیں ہو گئے ان کا بھی وقت گزر گیا اور ان کا بھی زمانہ گزر گیا ۔ جاڑہ کے روزے تھے صرف غذا کے اوقات کی ایک تبدیلی تھی سات آٹھ بجے نہ کھائی چار پانچ بجے کھالی با وجود اس قدر رعایت کے پھر بھی بہتوں نے شعائر اللہ کی عظمت نہیں کی اور خدا تعالیٰ کے اس واجب التكريم مهمان ماه رمضان کو بڑی حقارت سے دیکھا ۔ اِس قدر آسانی کے مہینوں میں رمضان کا آنا ایک قسم کا معیار تھا اور مطیع و عاصی میں فرق کرنے کے لئے یہ روزے میزان کا حکم رکھتے تھے