تریاق القلوب — Page 461
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۶۱ تریاق القلوب حاشي ڈوئی صاحب کی فراست نے معلوم کر لیا کہ یہ تحریریں باطل اور حاسدانہ خیالات ہیں۔ اس لئے اُنہوں نے اُن تحریروں کو شامل مثل نہ کیا اور رڈی کی طرح پھینک دیا اور جو ہماری طرف سے تحریریں گذری تھیں جن سے ثابت ہوتا تھا کہ محمد حسین نے مخالفانہ جوش میں کیسی بد زبانی اور فحش گوئی اور قابل شرم تدبیروں سے کام لیا ہے وہ سب شامل مثل کر دیں۔ غرض یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ ان لوگوں نے میرے ہلاک کرنے کے لئے : جس طرح پر اس آیت میں خدا تعالیٰ نے فقرات کو رکھا ہے اور بعض کو مقدم اور بعض کو مؤخر بیان کیا ہے اور اسی طرح پڑھنے کا حکم دیا ہے وہ ترتیب اسی بات کو چاہتی ہے کہ رفع اور تطہیر اور غلبہ سے پہلے حضرت مسیح کی وفات ہو جائے۔ اور اس کی تائید میں ایک اور آیت قرآن شریف کی ہے جو وہ بھی حضرت مسیح کی وفات کو ثابت کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۔ اس آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام صاف اقرار کرتے ہیں کہ عیسائی میرے مرنے کے بعد بگڑے ہیں میری زندگی میں ہرگز نہیں بگڑے۔ پس اگر حضرت عیسی علیہ السلام اب تک جسم عنصری زندہ ہیں تو ماننا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک اپنے سچے دین پر قائم ہیں اور یہ صریح باطل ہے۔ ایسا ہی حضرت ابوبکر رضی الله عنه ☑ کا اس آیت سے استدلال کرنا کہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ صاف دلالت کرتا ہے کہ اُن کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے تھے کیونکہ اگر اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ پہلے نبیوں میں سے بعض نبی تو جناب خاتم الانبیاء کے عہد سے پیشتر فوت ہو گئے ہیں مگر بعض اُن میں سے زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک فوت نہیں ہوئے تو اس صورت میں یہ آیت قابل استدلال نہیں رہتی کیونکہ ایک نا تمام دلیل جو ایک قاعدہ کلیہ کی طرح نہیں اور تمام افراد گزشتہ پر دائرہ کی طرح محیط نہیں وہ دلیل کے نام سے موسوم نہیں ہو سکتی۔ پھر اُس سے حضرت ابوبکر کا استدلال لغو ٹھہرتا ہے اور یادر ہے کہ یہ دلیل جو حضرت ابو بکر نے تمام گذشتہ نبیوں کی وفات پر پیش کی کسی صحابی سے اس کا انکار مروی نہیں حالانکہ اُس وقت سب صحابی موجود تھے اور سب سن کر خاموش ہو گئے ۔ اس سے ثابت ہے کہ اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا تھا اور صحابہ کا اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔ سو حضرت ابوبکر کے احسانات میں سے جو اِس اُمت پر ہیں ا المائدة : ١١٨ ۲ آل عمران : ۱۴۵