تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 458 of 769

تریاق القلوب — Page 458

روحانی خزائن جلد ۱۵ حاشي ۴۵۸ تریاق القلوب امن و آسائیش کے متعلق احسان کئے ۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ ہم پوری آزادی سے فرائض دینی ادا کرنے لگے۔ پھر ایسا کون پاگل اور دیوانہ ہے کہ اس قدر احسانات دیکھ کر پھر نمک حرامی کرے ۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ ہمارے خدا نے ہمارے لئے اس گورنمنٹ کو ایک پناہ بنا دیا ہے ۔ اور وہ سیلاب ظلم اور تعدی جو جلد تر ہمیں ہلاک کرنا چاہتا تھا وہ اِس فولادی بند سے رک گیا ہے ۔ تو پھر یہ مقام شخص اس کے ہماری طرف سے دو جواب ہیں ۔ (۱) اوّل یہ کہ خود صیح بخاری میں حضرت ابن عباس سے یہ معنی مروی ہیں کہ متوفیک ممیتک یعنی حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ متوفیک کے یہ معنے ہیں کہ میں تجھے وفات د ، وفات دوں گا ۔ علاوہ اس کے جو شخص تمام احادیث اور ا۔ قرآن شریف کا تتبع کرے گا اور تمام لغت کی کتابوں اور ادب کی کتابوں کو غور سے دیکھے گا اس پر یہ بات مخفی نہیں رہے گی کہ یہ قدیم محاورہ لسان عرب ہے کہ جب خدا تعالیٰ فاعل ہوتا ہے اور انسان مفعول بہ ہوتا ہے تو ایسے موقعہ پر لفظ توفی کے معنے بجز وفات کے اور کچھ نہیں ہوتے اور اگر کوئی شخص اس سے انکار کرے تو اُس پر واجب ہے کہ ہمیں حدیث یا قرآن یا فن ادب کی کسی کتاب سے یہ دکھلاوے کہ ایسی صورت میں کوئی اور معنے بھی توفی کے آجاتے ہیں ۔ اور اگر ایسا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ قدسیہ سے پیش کر سکے تو ہم توقف اُس کو پاسو روپے انعام دینے کو طیار ہیں ۔ دیکھو حق کے اظہار کے لئے ہم کس قدر مال خرچ کرنا چاہتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیتا ؟ اگر سچائی پر ہوتے تو اس سوال کا ضرور جواب دیتے اور نقد روپیہ پاتے ۔ غرض جب فیصلہ ہو گیا کہ توفی کے معنے موت ہیں یہی معنے حضرت ابن عباس کی حدیث سے معلوم ہوئے ۔ اور ابن عباس کا قول جو صحیح بخاری میں مندرج ہے وہ قول ہے جس کو عینی شارح بخاری نے اپنی شرح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کیا ہے اور یہی معنے محاورات قرآن اور محاورات احادیث میں سے اور نیز کلام بلغاء عرب کے تتبع سے ثابت ہوئے اور اس کے سوا کچھ ثابت نہ ہوا تو پھر ماننا پڑا کہ یہ وعدہ جو اس آیت شریفہ میں مندرج ہے یہ حضرت مسیح کی موت طبعی کا وعدہ ہے اور اس میں حضرت مسیح کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ وہ یہودی کہ جو اس فکر میں تھے کہ آنجناب کو بذریعہ صلیب قتل کر دیں وہ قتل نہیں کر سکیں گے بلا ۔ ۱۴۶