تریاق القلوب — Page 301
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۰۱ تریاق القلوب ہے کہ اُس اصل خط کو چھاپ دیا جائے مگر یادر ہے کہ چودھویں صدی کے خط میں جس قدر اختصار کیا گیا ہے یہ کسی کا قصور نہیں ہے۔ اختصار کے لئے میں نے ہی اجازت دی تھی مگر اس اجازت کے استعمال میں کسی قدر غلطی ہوگئی ہے۔ لہذا اب اس کی اصلاح ضروری ہے۔ اس تمام قصے کے لکھنے سے غرض یہ ہے کہ ہماری جماعت اور تمام حق کے ﴿۶﴾ طالبوں کے لئے یہ بھی ایک خدا کا نشان ہے۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ بزرگ موصوف جن کا خط ذیل میں لکھا جاتا ہے کچھ عام لوگوں میں سے نہیں ہیں بلکہ جہاں تک میرا خیال ہے وہ ایک بڑے ذی علم اور علماء وقت میں سے ہیں اور کئی لوگوں سے میں نے سنا ہے کہ ان کو الہام بھی ہوتا ہے۔ اور اس خط میں انہوں نے اپنے الہام کا ذکر بھی کیا ہے۔ علاوہ ان سب باتوں کے وہ بزرگ پنجاب کے معز ز رئیسوں اور جاگیرداروں میں سے ہیں اور ایک مدت سے گورنمنٹ عالیہ انگریزی کی طرف سے عہدہ اکسٹرا اسسٹنٹی پر بھی ممتاز ہیں۔ چونکہ پرچہ چودھویں صدی میں بھی اس بزرگ کے منصب اور مرتبت کا ذکر ہو چکا ہے لہذا اس قدر یہاں بھی لکھا گیا اور بزرگ موصوف نے جو میرے نام بغرض معذرت ۲۹ اکتوبر ۱۸۹۷ء کو خط لکھا تھا جس کا خلاصہ چودھویں صدی میں چھپا ہے اس خط کو بغرض مصلحت مذکورہ بالا بحذف بعض فقرات ذیل میں لکھتا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے : اخبار چودھویں صدی والا مجرم بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسوله الكريم سیدی و مولائی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ایک خطا کار اپنی غلط کاری یہ عنوان بزرگ موصوف نے اپنے خط کے سر پر لکھا تھا چونکہ اس عنوان میں نہایت انکسار ہے جو انسان کو بوجہ اس کے کمال تذلل کے مورد رحمت الہی بناتا ہے۔ اس لئے ہم نے اس کو جیسا کہ اصل خط میں تھا لکھ دیا ہے ۔ منہ