تریاق القلوب — Page 293
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۹۳ تریاق القلوب ان کا یہ کلمہ باعث رنج ہوا اور مجھے افسوس ہوا کہ ان کے دماغ اور دل میں ان لوگوں کی جو خدا سے مامور ہو کر آتے ہیں سچی عظمت نہیں اور صرف ظاہر داری کے طور پر ایک گروہ کثیر کے ساتھ چلے آئے ہیں۔ سو میں نے روپیہ کے نقصان کے وقت یہ بھی خیال کیا کہ یہ رنج جو وزیر صاحب کے ایک کلمہ سے مجھے پہنچا تھا اسی حد تک اس پیشگوئی کا منشاء ختم ہو گیا جس کے یہ لفظ تھے کہ کچھ ہم وغم بھی پیش آئے گا مگر یہ میرا خیال غلط تھا کیونکہ اس سفر میں غم وہم کا ایک اور حصہ باقی تھا جو واپس ہونے کے وقت دوراہہ کے اسٹیشن پر پورا ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب ہم دوراہہ کے اسٹیشن پر پہنچے تو لدھیانہ جہاں ہم نے جانا تھا اس جگہ سے دس کوس باقی رہ گیا ۔ رات قریباً دس بجے گذر گئی تھی تب میرے ہمراہی شیخ عبدالرحیم نے ایک انگریز سے پوچھا کہ کیا لدھیا نہ آگیا۔ اُس نے ہنسی سے یا کسی اور غرض سے کہا کہ آگیا۔ اور ہم اس بات کے سننے سے سب کے سب ریل پر سے اُتر آئے۔ اور جب ہم اُتر چکے اور ریل روانہ ہوگئی تب ہمیں پتہ لگا کہ یہ دوراہہ ہے لدھیانہ نہیں ہے۔ اور وہ ایسی جگہ تھی کہ بیٹھنے کے لئے بھی چار پائی نہیں ملتی تھی اور نہ کھانے کے لئے روٹی ۔ تب ہمیں بہت رنج اور افسوس اور ہم و غم ہوا کہ ہم غلطی سے بے ٹھکا نہ اُتر آئے اور ساتھ ہی یاد آیا کہ ضرور تھا کہ ایسا ہوتا ۔ تب سب کے دل سرور اور خوشی سے بھر گئے کہ خدا تعالیٰ کا الہام پورا ہوا ۔ اس واقعہ اور نشان کے گواہ شیخ حامد علی اور شیخ عبدالرحیم اور فتح خاں ہیں اگر چہ یہ دونوں ان دنوں میں اپنی بد قسمتی سے سخت دشمن ہیں مگر چونکہ یہ بیان بالکل سچا ہے اس لئے اگر ان دونوں کو حلف دی جائے تو ممکن نہیں کہ جھوٹ بولیں مگر شرط یہ ہے کہ حلف نمونہ نمبر ۲ کے موافق ہوگی ۔ اب دیکھو کہ نشان اسے کہتے ہیں جس میں