تریاق القلوب — Page 277
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۷۷ تریاق القلوب وہ دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ (۱) ایک وہ جو دوسروں کی اصلاح کے لئے مامور نہیں ہوتے ﴿۲۶﴾ بلکہ اُن کا کاروبار اپنے نفس تک ہی محدود ہوتا ہے۔ اور اُن کا کام صرف یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر دم اپنے نفس کو ہی زہد اور تقوی اور اخلاص کا صیقل دیتے رہتے ہیں اور حتی الوسع خدا تعالیٰ کی ادق سے اَدق رضا مندی کی راہوں پر چلتے اور اُس کے بار یک وصایا کے پابند رہتے ہیں اور ان کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایسے عالی خاندان اور عالی قوم میں سے ہوں جو علو نسب اور شرافت اور نجابت اور امارت اور ریاست کا خاندان ہو بلکہ حسب آیت کریمہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقُكُمْ * صرف ان کی تقوئی دیکھی جاتی ہے گو وہ دراصل چوہڑوں میں سے ہوں یا چماروں میں سے یا مثلاً کوئی اُن میں سے ذات کا کنجر ہو جس نے اپنے پیشہ سے تو بہ کر لی ہو یا اُن قوموں میں سے ہو جو اسلام میں دوسری قوموں کے خادم اور نیچی قو میں سمجھی جاتی ہیں ۔ جیسے حجام ۔ موچی ۔ تیلی ۔ ڈوم ۔ میرا سی ۔ سقے ۔ قصائی ۔ جولا ہے ۔ کنجری ۔ تنبولی ۔ دھوبی ۔ مچھوے ۔ بھڑ بھونجے ۔ نانبائی وغیرہ یا مثلاً ایسا شخص ہو کہ اس کی ولادت میں ہی شک ہو کہ آیا حلال کا ہے یا حرام کا ۔ یہ تمام لوگ تو بہ نصوح سے اولیاء اللہ میں داخل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ درگاہ کریم ہے اور فیضان کی موجیں بڑے جوش سے جاری ہیں اور اُس قدوس ابدی کے دریائے محبت میں غرق ہو کر طرح طرح کے میلوں والے اُن تمام میلوں سے پاک ہو سکتے ہیں جو عرف اور عادت کے طور پر اُن پر لگائے جاتے ہیں۔ اور پھر بعد اس کے کہ وہ اُس خدائے قدوس سے مل گئے ۔ اور اس کی محبت میں محو ہو گئے اور اس کی رضا میں کھوئے ا گئے سخت بدذاتی ہوتی ہے کہ اُن کی کسی نیچ ذات کا ذکر بھی کیا جائے کیونکہ اب وہ وہ نہیں رہے اور انہوں نے اپنی شخصیت کو چھوڑ دیا اور خدا میں جاملے اور اس لائق ہو گئے کہ ترجمہ ۔ تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی زیادہ بزرگ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ کی راہوں پر چلتا ہے۔ منہ الحجرات : ۱۴