تریاق القلوب — Page 258
تریاق القلوب ۲۵۸ روحانی خزائن جلد ۱۵ ایسا جاری رہا جس کی امید نہ تھی اور جس دن محمد افضل خان صاحب وغیرہ کا روپیہ آیا امر تسر بھی جانا پڑا کیونکہ عدالت خفیفہ امرتسر سے ایک شہادت کے ادا کرنے کے لئے اُسی روز سمن آ گیا۔ اور اس نشان کے آریہ مذکورین گواہ ہیں جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں اور کئی اور مسلمان بھی گواہ ہیں جواب تک زندہ موجود ہیں ۔ اور یہ پیشگوئی براہین احمد یہ میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے۔ دیکھو براہین احمد یہ ۴۶۸ و ۴۶۹ وہ ۴۷۔ ☆ ایک صاحب حافظ نوراحمد نامی مولوی غلام علی قصوری کے شاگرد ایک دفعہ سیر کرتے ہوئے یہاں بھی آگئے اور انہوں نے مدعیانہ طور پر الہام سے انکار کیا ۔ معقولی طور پر بہت سمجھایا گیا آخر کار توجہ الی اللہ کی گئی اور ان کو قبل از ظهور پیشگوئی بتلایا گیا کہ دعا کی جائے گی تا خدا وند کریم کوئی ایسی پیشگوئی ظاہر فرماوے جو تم بچشم خود دیکھ جاؤ۔ دعا کی گئی۔ علی الصباح بہ نظر کشفی ایک خط دکھلایا گیا جو ایک شخص نے ڈاک میں بھیجا ہے۔ اُس خط پر انگریزی زبان میں لکھا ہوا تھا آئی آئیم کو ار کرے اور عربی میں لکھا ہوا ا ہے ۔هذا شاهد نزاغ اور یہی الہام حکایتا عن الكاتب القا کیا گیا ۔ پہلے میاں نور احمد کو اس کشف اور الہام سے اطلاع دی گئی ۔ پھر ایک انگریزی خوان سے انگریزی فقرہ کے معنے دریافت کئے گئے تو معلوم ہوا کہ اس کے معنی ہیں میں جھگڑنے والا ہوں ۔ اس سے یقیناً معلوم ہو گیا کہ کسی جھگڑے کے متعلق کوئی خط آنے والا تھا ۔ اور عربی فقرے کے یہ معنے کھلے کہ کا تب خط نے کسی مقدمہ کی شہادت کے بارے میں وہ خط لکھا ہے ۔ حافظ نور احمد بباعث بارش اُس دن امرتسر جانے سے روکے گئے اور در حقیقت یہ بھی ایک سماوی سبب تھا تا بچشم خود پیشگوئی کے ظہور کو دیکھ لیں ۔ شام کو ایک خط رجسٹری شده پادری رجب علی مالک مطبع سفیر ہند کا آیا جس سے معلوم ہوا کہ پادری صاحب نے اپنے کا تب پر نالش کی تھی اور مجھے گواہ ٹھہرایا ہے اور I am quarreller۔)ناشر( ۳۸ ۵۸