تریاق القلوب — Page 167
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۶۷ تریاق القلوب اپنے اندر رکھتے ہیں ہم اور آسیہ اور آیت لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ لے سے بے خبر ہیں ۔ دوسری صورت صلیبی مذہب پر غلبہ پانے کی یہ ہے کہ معمولی مباحثات سے جو ہمیشہ اہل مذہب کیا کرتے ہیں۔ اس مذہب کو مغلوب کیا جائے مگر یہ صورت بھی ہرگز کامل کامیابی کا ذریعہ نہیں ہو سکتی کیونکہ اکثر مباحثات کا میدان وسیع ہوتا ہے اور دلائل عقلیہ اکثر نظری ہوتے ہیں اور ہر ایک نادان اور موٹی عقل والے کا کام نہیں کہ عقلی اور نقلی دلائل کو سمجھ سکے۔ اسی لئے بت پرستوں کی قوم باوجود قابل شرم عقیدوں کے اب تک جا بجا دنیا میں پائی جاتی ہے۔ تیسری صورت صلیبی مذہب پر غلبہ پانے کی یہ ہے کہ آسمانی نشانوں سے اسلام کی برکت اور عزت ظاہر کی جائے اور زمین کے واقعات سے امور محسوسہ بدیهیہ کی طرح یہ ثابت کیا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر گئے بلکہ اپنی طبعی موت سے مر گئے ۔ اور یہ تیسری صورت ایسی ہے کہ ایک متعصب عیسائی بھی اقرار کر سکتا ہے کہ اگر یہ بات بپایہ ثبوت پہنچ جائے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے تو پھر عیسائی مذہب باطل ہے اور کفارہ اور تثلیث سب باطل اور پھر اس کے ساتھ جب آسمانی نشان بھی اسلام کی تائید میں دکھلائے جائیں تو گویا اسلام میں داخل ہونے کے لئے تمام زمین کے عیسائیوں پر رحمت کا دروازہ کھول دیا جائے گا۔ سو یہی تیسری صورت ہے جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔ خدا تعالیٰ نے ایک طرف تو مجھے آسمانی نشان عطا فرمائے ہیں اور کوئی نہیں کہ ان میں میرا مقابلہ کر سکے۔ تمام سچے مسلمان جو دنیا میں گذرے بھی ان کا یہ عقیدہ نہیں ہوا کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہیے بلکہ ہمیشہ اسلام اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے دنیا میں پھیلا ہے۔ پس جو لوگ مسلمان کہلا کر صرف یہی بات جانتے ہیں کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہیے وہ اسلام کی ذاتی خوبیوں کے معترف نہیں ہیں اور ان کی کارروائی درندوں کی کارروائی سے مشابہ ہے۔ منہ البقرة : ۲۵۷