توضیح مرام — Page 569
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۶۹ ازالہ اوہام حصہ دوم ۳۱ جولائی ۱۸۹۱ء کو جب میں جواب سنانے کے لئے گیا تو جاتے ہی مولوی محمد حسین صاحب کے طور بدلے ہوئے نظر آئے۔ اُن کی ہر ایک بات میں کبھی معلوم ہوتی تھی اور بداخلاقی کا کچھ انتہا نہ تھا۔ جب میں مضمون حاضرین کے رو برو پڑھنے لگا تو انہوں نے دخل بے جا شروع کیا یہاں تک کہ ایک مرتبہ خواہ نخواہ فضولی کے طور پر بول اُٹھے کہ تم نے کسی کتاب کا نام غلط پڑھا ہے اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ اس عاجز نے کوئی نام غلط نہیں پڑھا تھا۔ مولوی ۸۶۱ صاحب کو صرف اپنی شیخی اور علمیت ظاہر کرنا منظور تھا جس کے جوش میں آکر انہوں نے ترک گفتگو زبانی کا عہد کئی بار توڑا۔ اور جیسے پل ٹوٹنے سے پانی زور سے یہ نکلتا ہے ایسا ہی اُن کا صبر ٹوٹ کر نفسانی جذبات کا سیلاب جاری ہوا۔ ہر چند کہا گیا کہ حضرت مولوی صاحب آپ سے یہ شرط ہے کہ آپ میری تقریر کے وقت خاموش رہیں جیسا میں خاموش رہا لیکن انہوں نے صبر نہ کیا کیونکہ سچائی کے رعب سے اُن پر حق پوشی کے لئے ایک قلق طاری ہو رہا تھا ۔ آخر دیکھتے دیکھتے اُن کی حالت خوفناک ہوگئی مگر شکر اللہ کہ اس عرصہ میں تمام مضمون سنایا گیا ۔ اور آخری مضمون یہ تھا کہ اب یہ تمہیدی بحث ختم کی گئی کیونکہ امور مستفسرہ کا بہ بسط تمام جواب ہو چکا۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ اگر مولوی صاحب کے دل میں اور بھی خیالات باقی ہیں تو بذریعہ اپنے رسالہ کے شائع کریں ۔ اس تمہیدی بحث کے ختم کرنے کی وجہ یہی تھی کہ فریقین کے بیانات نہایت طول تک بلکہ دس جزو تک پہنچ چکے تھے اور برابر باراں دن اس ادنی اور تمہیدی مباحثہ میں خرچ ہوئے تھے۔ اور اس تمام بحث میں مولوی صاحب کا صرف ایک ہی سوال بار بار تھا کہ کتاب اللہ اور حدیث کو مانتے ہو یا نہیں جس کا کئی دفعہ ۸۶۲ مولوی صاحب کو کھول کھول کر جواب دیا گیا کہ کتاب اللہ کو بلا شرائط اور حدیث کو بشرط مانتا ہوں اور مکر راستفسار پر اصل منشاء ظاہر کر دیا گیا کہ حدیث کا وہ حصہ جو اخبار اور مواعید اور قصص اور واقعات گذشتہ سے متعلق ہے اس شرط سے قبول کیا جائے گا کہ قرآن کریم کے