توضیح مرام — Page 473
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۷۳ ازالہ اوہام حصہ دوم جنت اور نار کی حقیقت بھی ظاہر کی گئی ہے پھر کیوں کر ممکن تھا کہ اس کی تفسیر میں غلطی کر سکتے غلطی کا احتمال صرف ایسی پیشگویوں میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ خود اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے مبہم اور مجمل رکھنا چاہتا ہے اور مسائل دینیہ سے اُن کا کچھ علاقہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک نہایت دقیق راز ہے جس کے یادرکھنے سے معرفت صحیحہ مرتبہ نبوت کی حاصل ہوتی ہے اور اسی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں که اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے مو بمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باغ کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یا جوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابتہ الارض کی ماہیت كَمَا هِی ہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور متشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قوئی کے ممکن ہے اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں اور ایسے امور میں اگر وقت ظہور کچھ جزئیات غیر معلومہ ظاہر ہو جائیں تو ۶۹۲ شان نبوت پر کچھ جائے حرف نہیں مگر قرآن اور حدیث پر غور کرنے سے یہ بخوبی ثابت ہو گیا ہے کہ ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تو یقینی اور قطعی طور پر سمجھ لیا تھا کہ وہ ابن مریم جو رسول اللہ نبی ناصری صاحب انجیل ہے وہ ہرگز دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا بلکہ اس کا کوئی ستمی آئے گا جو بوجہ مماثلت روحانی اس کے نام کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے پائے گا۔ اور منجملہ ان علامات کے جو اس عاجز کے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں پائی جاتی ہیں وہ خدمات خاصہ ہیں جو اس عاجز کو مسیح ابن مریم کی خدمات کے رنگ پر سپرد کی گئی ہیں کیونکہ مسیح اُس وقت یہودیوں میں آیا تھا کہ جب توریت کا مغز اور بطن یہودیوں کے دلوں پر سے اُٹھایا گیا تھا اور وہ زمانہ حضرت موسیٰ سے ؟ موسی سے چودان سو برس بعد تھا کہ جب مسیح ابن مر ما کہ جب مسیح ابن مریم یہودیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا تھا۔ پس ایسے ہی زمانہ میں یہ عاجز آیا کہ جب قرآن کریم کا مغز اور بطن مسلمانوں کے دلوں پر سے اٹھایا گیا اور یہ زمانہ بھی حضرت مثیل موسیٰ کے وقت سے ۶۹۳ اُسی زمانہ کے قریب قریب گزر چکا تھا جو حضرت موسیٰ اور عیسی کے درمیان میں زمانہ تھا۔ ۱۴۰۰