توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 438 of 748

توضیح مرام — Page 438

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۳۸ ازالہ اوہام حصہ دوم آسمان پر لے جاوے۔ اب اگر جسم خاکی کے ساتھ ابن مریم کا آسمان پر جانا صحیح مان لیا جائے تو یہ جواب مذکورہ بالا سخت اعتراض کے لائق ٹھہر جائے گا اور کلام الہی میں تناقض اور اختلاف لازم آئے گا لہذا قطعی اور یقینی یہی امر ہے کہ حضرت مسیح بجسده العنصری آسمان پر نہیں گئے بلکہ موت کے بعد آسمان پر گئے ہیں ۔ بھلا ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا موت کے بعد حضرت یحییٰ اور حضرت آدم اور حضرت اور لیس اور حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف وغیرہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے یا نہیں۔ اگر نہیں اٹھائے گئے تو پھر کیوں کر معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو آسمانوں میں دیکھا اور اگر اٹھائے گئے تھے تو پھر ناحق مسیح ابن مریم کی رفع کے کیوں اور طور پر معنے کئے جاتے ہیں ۔ تعجب کہ توفی کا لفظ جو صریح وفات پر دلالت کرتا ہے جا بجا اُن کے حق میں موجود ہے اور اٹھائے جانے کا نمونہ بھی ۶۲۷ بدیہی طور پر کھلا ہے کیونکہ وہ انہیں فوت شدہ لوگوں میں جاملے جو اُن سے پہلے اٹھائے گئے تھے۔ اور اگر کہو کہ وہ لوگ اٹھائے نہیں گئے تو میں کہتا ہوں کہ وہ پھر آسمان میں کیوں کر پہنچ گئے آخر اٹھائے گئے تبھی تو آسمان میں پہنچے۔ کیا تم قرآن شریف میں یہ آیت نہیں پڑھتے وَرَفَعْتُهُ مَكَانًا عَلِيًّا لے ۔ کیا یہ وہی رفع نہیں ہے جو مسیح کے بارہ میں آیا ہے؟ کیا اس کے اٹھائے جانے کے معنے نہیں ہیں فَإِنِّي تُصْرَفُونَ۔ حضرات غزنوی اور مولوی محی الدین صاحب کے الہامات کے بارے میں کچھ مختصر تحریر میاں عبد الحق صاحب غزنوی اور مولوی محی الدین صاحب لکھو والے اس عاجز کے حق کے الہام میں لکھتے ہیں کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ چنانچہ عبدالحق صاحب ۔ ۱۲۸ میں تو صریح سیصلی نارًا ذات لهب موجود ہے اور محی الدین صاحب کو یہ الہام ہوا ہے مریم : ۵۸