توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 748

توضیح مرام — Page 328

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۲۸ ازالہ اوہام حصہ دوم جو مجرد تقلیدی انکلوں یا عقلی ڈھکوسلوں سے ہرگز مل نہیں سکتا کیونکہ تقلیدی علوم محدود و مشتبہ ہیں اور عقلی خیالات ناقص و نا تمام ہیں اور ہمیں ضرور حاجت ہے کہ براہ راست اپنے عرفان کی توسیع کریں کیونکہ جس قدر ہمارا عرفان ہوگا اُسی قدر ہم میں ولولہ و شوق جوش مارے گا۔ کیا ہمیں باوجود ناقص عرفان کے کامل ولولہ وشوق کی کچھ توقع ہے؟ نہیں کچھ بھی نہیں۔ سوحیرت اور تعجب ہے کہ وہ لوگ کیسے بد فہم ہیں جو ایسے ذریعہ کاملہ وصول حق سے اپنے تئیں مستغنی سمجھتے ہیں جس سے روحانی زندگی وابستہ ہے۔ یا د رکھنا او چاہیے کہ روحانی علوم اور روحانی معارف معارف صرف بذریعہ الہامات و مکاشفات ہی ۴۳۱ ملتے ہیں اور جب تک ہم وہ درجہ روشنی کا نہ پالیں تب تک ہماری انسانیت کسی حقیقی معرفت یا حقیقی کمال سے بہرہ یاب نہیں ہو سکتی ۔ صرف کوے کی طرح یا بھیڑی کی مانند ایک نجاست کو ہم حلوہ سمجھتے رہیں گے اور ہم میں ایمانی فراست بھی نہیں آئے گی ۔ صرف لومڑی کی طرح داؤ پیچ بہت یاد ہوں گے۔ ہم ایک بڑے بھاری مطلب کے لئے جو یقینی معرفت ہے پیدا کئے گئے ہیں اور وہی معرفت ہماری نجات کا مدار بھی ہے جو ہر یک خبیث اور مغشوش طریق سے ہمیں آزادی بخش کر ایک پاک اور شفاف دریا کے کنارہ پر ہمارا منہ رکھ دیتی ہے اور وہ صرف بذریعہ الہام الہی ہمیں ملتی ہے۔ جب ہم اپنے نفس سے بکلی فنا ہوکر دردمند دل کے ساتھ لایڈ رک وجود میں ایک گہرا غوطہ مارتے ہیں تو ہماری بشریت الوہیت کے دریا میں پڑنے سے عند العود کچھ آثار و انوار اس عالم کے ساتھ لے آتی ہے۔ سو جس چیز کو اس دنیا کے لوگ بنظر حقارت دیکھتے ہیں ۔ در حقیقت وہی ایک چیز ہے جو مدت کے جدا شدہ کو ایک دم میں اپنے محبوب سے ملاتی ہے وہی ہے جس سے عشاق الہی تستی پاتے ہیں اور طرح طرح کی نفسانی قیدوں سے بیک بار اپنا ۴۳۲ پیر باہر نکال لیتے ہیں جب تک وہ سچی روشنی دلوں پر نازل نہ ہو ہر گز ممکن ہی نہیں کہ کوئی دل منور ہو سکے۔ غرض انسانی عقل کی نا قابلیت اور رسمی علوم کی محدودیت ضرورت الہام پر