توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 748

توضیح مرام — Page 304

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۰۴ ازالہ اوہام حصہ اول تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور کیوں اس وعدہ کا ایفاء نہ کیا جو تو نے پہلے سے کر رکھا تھا کہ تو مرے گا نہیں بلکہ یونس کی طرح تیرا حال ہوگا۔ اگر کہا جائے کہ خدائے تعالیٰ کے وعدہ حفاظت میں مسیح نے کیوں شک کیا سو واضح ہو کہ یہ شک ضعف بشریت سے ہے۔ جلالی تجلتی ۳۹۵) کے سامنے بشریت کی کچھ پیش نہیں جاتی ۔ ہر یک نبی کو خدائے تعالیٰ یہ دن دکھاتا ہے ۔ اوّل وہ کوئی وعدہ بشارت اپنے نبی کو دیتا ہے اور پھر جب وہ نبی اس وعدہ پر خوش ہو جاتا ہے تو ابتلا کے طور پر چاروں طرف سے ایسے موانع قائم کر دیتا ہے کہ جو نومیدی اور ناکامی پر دلالت کرتے ہوں بلکہ قطع اور یقین کی حد تک پہنچ گئے ہوں جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے ایک طرف تو ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کی لڑائی میں فتح اور نصرت کی بشارت دی اور دوسری طرف جب لڑائی کا وقت آیا تو پھر پتہ لگا کہ مخالفوں کی اس قدر جمعیت ہے کہ بظاہر کامیابی کی امید نہیں ۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت کرب و قلق ہوا اور جناب الہی میں رو رو کر دعائیں کیں کہ یا الہی اس گروہ کو فتح بخش اور اگر تو فتح نہیں دے گا اور ہلاک کر دے گا تو پھر قیامت تک کوئی تیری پرستش نہیں کرے گا ۔ سو یہ الفاظ در حقیقت اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیشگوئی کی نسبت شک میں پڑ گئے تھے بلکہ حالات موجودہ کو خلاف مراد دیکھ کر خدائے تعالیٰ کے غنائے ذاتی پر نظر تھی اور اس کی جلالی ہیت سے متاثر ہو گئے تھے اور در حقیقت ہر یک جگہ جو قرآن شریف میں نبی کریم کو کہا گیا ہے ۳۹۶ کہ تو ہمارے و رے وعدہ میں شک مت کہ شک مت کر وہ سب مقامات اسی قسم ، اسی قسم کے ہیں جن ؟ ہیں جن میں بظاہر سخت ناکامی کی صورتیں پیدا ہو گئی تھیں اور اسباب مخالفہ نے ایسا رعب ناک اپنا چہرہ دکھلایا تھا جن کو دیکھ کر ہر یک انسان ضعف بشریت کی وجہ سے حیران ہو جاتا ہے۔ سو ان وقتوں میں نبی کریم کو بطور تسلی دہی کے فرمایا گیا کہ اگر چہ حالت نہایت نازک ہے مگر تو باعث ضعف بشریت شک مت کر یعنی یہ خیال مت کر کہ شاید اس پیشگوئی کے اور معنے ہوں گے ۔