توضیح مرام — Page 200
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۰۰ ازالہ اوہام حصہ اول انــه خــارج خلة بين آنحضرت صلعم نے اس کا حلیہ بیان کرنے کے وقت لفظ کا نبی یعنی الشام والعراق فعات گویا کا لفظ بتا دیا تا اس بات پر دلالت کرے کہ یہ رویت حقیقی رؤیت يـمـيـنـا وعـات شمالا یا نہیں بلکہ ایک امر تعبیر طلب ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس پر صحاح ستہ کی عباد الله فاثبتوا قلنا يا رسول الله ما لبثه في بہت سی حدیث ں حدیثیں یقینی اور قطعی دلالی اور قطعی دلالت کر رہی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ الارض قال اربعون علیہ وسلم کو جو حضرت عیسی اور دجال کی نسبت امور معلوم ہوئے تھے وہ يوما، يوم كسنة و يوم حقیقت میں سب مکاشفات نبویہ تھے جو اپنے اپنے محل پر مناسب کشهر ويوم كجمعة تاویل و تعبیر رکھتے ہیں اُنہیں میں سے یہ دمشقی حدیث بھی ہے جو وسائر ايامه كا یامکم مسلم نے بیان کی ہے جس کا اس وقت ہم ترجمہ کر رہے ہیں اور ہمارے قلنا يا رسول الله اس بیان پر کہ یہ تمام پیشگوئیاں مکاشفات نبویہ ہیں اور رویا صالحہ کی فذالك اليوم الذي طرح بالتزام قرائن محتاج تعبیر ہیں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم كسنة اتكفينا فيه صلوة کے بیانات مقدسہ شاہد ناطق ہیں جیسا کہ یہ حدیث مندرجہ ذیل جو يوم - قال لا اقدروا له صحیحین میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ قدره - قلنا يا رسول الله وما اسراعه في وعن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه | ۲۰۴ الارض - قال كالغيث وسلم قال رايتنى الليلة عند الكعبة فرأيت رجلا ادم استــدبــرتــه الريح فياتي كاحسن ما انت رأي من أدم الرجال له لمة كاحسن | على القوم فيدعوهم ما انت راء من اللمم قد رجلها فهي تقطر ماء متكئا على فيؤمنون به ـ فيامر عواتق رجلين يطوف بالبيت فسألت من هذا فقالوا السماء فتمطر والارض هذا المسيح ابن مريم قال ثم اذا انا برجل جعد قطط فتنبت فتروح عليهم اعور العين اليمنى كان عينه عنبة طافية كاشبه من رأيتُ سارحتهم اطول ما كانت |