توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 748

توضیح مرام — Page 187

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۸۷ ازالہ اوہام حصہ اول ہوتی دیکھ کر ایمانی قوت میں بہت ترقی کر گئے اور اُن کے سماعی ایمان پر ایک معرفت کا رنگ آگیا اب وہ اُن تمام حیرتوں سے چھوٹ گئے جو اُن پیشگوئیوں کے بارہ میں دلوں میں پیدا ہوا کرتی ہیں جو پوری ہونے میں نہیں آتیں۔ چوتھی یہ کہ وہ خدائے تعالیٰ کے بھیجے ہوئے بندہ پر ایمان لا کر اس سخط اور غضب الہی سے بچ گئے جو ان نافرمانوں پر ہوتا ہے کہ جن کے حصہ میں بجز تکذیب و انکار کے اور کچھ نہیں۔ پانچویں یہ کہ وہ اُن فیوض اور برکات کے مستحق ٹھہر گئے جو اُن مخلص لوگوں پر نازل ہوتے ہیں جو حسن ظن سے اُس شخص کو قبول کر لیتے ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔ ΦΙΛΙ یہ تو وہ فوائد ہیں کہ جو انشاء اللہ الکریم اُن سعید لوگوں کو بفضلہ تعالیٰ ملیں گے جنہوں نے اس عاجز کو قبول کر لیا ہے لیکن جو لوگ قبول نہیں کرتے وہ ان تمام سعادتوں سے محروم ہیں اور اُن کا یہ وہم بھی لغو ہے کہ قبول کرنے کی حالت میں نقصان دین کا اندیشہ ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ نقصان دین کسی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ نقصان تو اس صورت میں ہوتا کہ اگر یہ عاجز بر خلاف تعلیم اسلام کے کسی اور نئی تعلیم پر چلنے کے لئے انہیں ؟ مجبور کرتا ۔ مثلاً کسی حلال چیز کو حرام یا حرام کو حلال بتلاتا یا ان ایمانی عقائد میں جو نجات کے لئے ضروری ہیں کچھ فرق ڈالتا یا یہ کہ صوم و صلوة و حج و زکوۃ وغیرہ اعمال شرعیہ میں کچھ ۱۸۲ بڑھاتا یا گھٹا دیتا مثلاً پانچ وقت کی نماز کی جگہ دس وقت کی نماز کر دیتا یا دو وقت ہی رہنے دیتا یا ایک مہینہ کی جگہ دو مہینے کے روزے فرض کر دیتا یا اس سے کم کی طرف توجہ دلاتا تو بے شک سراسر نقصان بلکہ کفر و خسران تھا لیکن جس حالت میں یہ عاجز بار بار یہی کہتا ہے کہ اے بھائیو! میں کوئی نیا دین یا نئی تعلیم لے کر نہیں آیا بلکہ میں بھی تم میں سے اور تمہاری طرح ایک مسلمان ہوں اور ہم مسلمانوں کے لئے بجز قرآن شریف اور کوئی دوسری کتاب نہیں جس پر عمل کریں یا عمل کرنے کے لئے دوسروں کو ہدایت دیں اور بجز