توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 748

توضیح مرام — Page 156

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۵۶ ازالہ اوہام حصہ اول ۱۰۲ آسمانی مصلح پیدا ہو گیا ہے کیونکہ بغیر روح القدس کے نزول کے وہ حرکت پیدا ہونا ممکن نہیں اور وہ حرکت حسب استعداد و طبائع دوقسم کی ہوتی ہے حرکت تامہ اور حرکت نا قصہ حرکت تامه وه حرکت ہے جو روح میں صفائی اور سادگی بخش کر اور عقل اور فہم کو کافی طور پر تیز کر کے رو جق کر دیتی ہے۔ ے۔ اور اور حرکت حرکت نا نا قصہ وہ ہے جو روح القدس القدس کی تحریک سے عقل اور اور فہم فہم تو تو کسی ق قدر تیز ہو جاتا ہے مگر بباعث عدم سلامت استعداد کے وہ رو جق نہیں ہو سکتا بلکہ مصداق اس آیت کا ۱۰۳) ہو جاتا ہے کہ فِي قُلُوْ بِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ، یعنی عقل اور فہم کے جنبش میں آنے سے پچھلی حالت اُس شخص کی پہلی حالت سے بدتر ہو جاتی ہے جیسا کہ تمام نبیوں کے وقت میں یہی ہوتا رہا کہ جب اُن کے نزول کے ساتھ ملائک کا نزول ہوا تو ملائکہ کی اندرونی تحریک سے ہر یک طبیعت عام طور پر جنبش میں آگئی تب جو لوگ راستی کے فرزند تھے وہ دین احمدی کے مکہ معظمہ میں قدم جما دئے تھے۔ بقي اس پہلی علامت کا ثبوت اس عاجز کی نسبت ہر یک غور کرنے والے پر ظاہر ہوگا کہ یہ عاجز اسی قوت ایمانی کے جوش سے عام طور پر دعوت اسلام کے لئے کھڑا ہوا اور بارہ ہزار کے ۱۳ و قریب اشتہارات دعوت اسلام رجسٹری کرا کر تمام قوموں کے پیشواؤں اور امیروں اور والیان ملک کے نام روانہ کئے یہانتک کہ ایک خط اور ایک اشتہار بذریعہ رجسٹری گورنمنٹ برطانیہ کے شہزادہ ولی عہد کے نام بھی روانہ کیا اور وزیر اعظم تخت انگلستان گلیڈسٹون کے نام بھی ایک پرچہ اشتہار اور خط روانہ کیا گیا۔ ایسا ہی شہزادہ بسمارک کے نام اور دوسرے نامی امراء کے نام مختلف ملکوں میں اشتہارات و خطوط روانہ کئے گئے جن سے ایک صندوق پر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کام بجز قوت ایمانی کے انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔ یہ بات خودستائی کے طور پر نہیں بلکہ حقیقت نمائی کے طور پر ہے تا حق کے طالبوں پر کوئی بات مشتبہ نہ رہے۔ ماسوا اس کے قوت ایمانی کے انوار جو تائیدات غیبیہ کے پیرایہ میں بطور خارق عادت ظاہر ہوتے ہیں جو خدائے تعالیٰ کے فضل و رحم اور قرب پر دلالت کرتے ہیں اُن کے بارے میں بھی انہیں اشتہارات میں لکھا گیا۔ ہے جو بباعث قوت ایمانی و قدم بر صراط مستقیم یہ سب نعمتیں اس عاجز کو خاص طور پر عطا کی گئی ہیں کسی مخالف مذہب کو یہ مرتبہ ہرگز حاصل نہیں اگر ہے تو وہ مقابلہ کے لئے کھڑا ہو وے اور اپنی ۱۳ البقرة :