توضیح مرام — Page 132
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۳۲ ازالہ اوہام حصہ اول مقرر کیا گیا ہے کہ تا تمام قوموں پر دین اسلام کی سچائی کی حجت پوری کرے تا دنیا کی ساری ۵۹ قوموں پر خدائے تعالیٰ کا الزام وارد ہو جائے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ مسیح کے دم سے کا فر مریں گے یعنی دلائل بینہ اور براہین قاطعہ کی رو سے وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ دوسرا کام مسیح کا یہ ہے کہ اسلام کو غلطیوں اور الحاقات بے جا سے منزہ کر کے وہ تعلیم جو روح اور راستی سے بھری ہوئی ہے خلق اللہ کے سامنے رکھے۔ تیسرا کام مسیح کا یہ ہے کہ ایمانی نور کو دنیا کی تمام قوموں کے مستعد دلوں کو بخشے اور منافقوں کو مخلصوں سے الگ کر دیوے۔ سو یہ تینوں کام خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کے سپرد کئے ہیں اور حقیقت میں ابتدا سے یہی مقرر ہے کہ صیح اپنے وقت کا مجدد ہو گا اور اعلیٰ درجہ کی تجدید کی خدمت خدائے تعالیٰ اُس سے لے گا اور یہ تینوں امور وہ ہیں جو خدائے تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے جو اس عاجز کے ذریعہ سے ظہور میں آویں سو وہ اپنے ارادہ کو پورا کرے گا اور اپنے بندہ کا مددگار ہوگا۔ اگر یہ کہا جائے کہ احادیث صاف اور صریح لفظوں میں بتلا رہی ہیں کہ مسیح ابن مریم ۲۰ آسمان سے اُترے گا اور دمشق کے منارہ شرقی کے پاس اُس کا اُترنا ہوگا اور دوفرشتوں کے کندھوں پر اُس کے ہاتھ ہوں گے تو اس مصرح اور واضح بیان سے کیوں کر انکار کیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آسمان سے اتر نا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ سچ مچ خاکی وجود آسمان سے اترے بلکہ صحیح حدیثوں میں تو آسمان کا لفظ بھی نہیں ہے اور یوں تو نزول کا لفظ عام ہے جو شخص ایک جگہ سے چل کر دوسری جگہ ٹھہرتا ہے اس کو بھی یہی کہتے ہیں کہ اُس جگہ اُترا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں جگہ لشکر اُتر ا ہے یا ڈیرا اُترا ہے کیا اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ لشکر یا وہ ڈیرا آسمان سے اُترا ہے ماسوائے اس کے خدائے تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں صاف فرما دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی آسمان سے ہی اُترے ہیں بلکہ ایک جگہ فرمایا ہے کہ لوہا بھی ہم نے آسمان سے اُتارا ہے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ یہ آسمان سے اُتر نا اُس