تحفۂ قیصریہ — Page 358
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۵۸ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ۳۲ بھی ثابت نہیں اور اگر کچھ ثابت ہے تو صرف یہی کہ چند آدمی طمع اور لالچ سے بھرے ہوئے اس کے ساتھ ہو گئے اور انجام کا رانہوں نے بڑی قابل شرم بے وفائیاں دکھلائیں اور اگر یسوع نے خودکشی کی تو میں اس سے زیادہ ہرگز تسلیم نہیں کروں گا کہ ایک ایسی بے وقوفی کی حرکت اس سے صادر ہوئی جس سے اس کی انسانیت اور عقل پر ہمیشہ کے لئے داغ لگ گیا ۔ ایسی حرکت جس کو انسانی قوانین بھی ہمیشہ جرائم کے نیچے داخل کرتے ہیں کیا کسی عقلمند سے صادر ہو سکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔ پس ہم پوچھتے ہیں کہ یسوع نے کیا سکھلایا اور کیا دیا ؟ کیا وہ لعنتی قربانی جس کا عقل اور انصاف کے نزدیک کوئی بھی نتیجہ معلوم نہیں ہوتا۔ کہ انجیل کی تعلیم میں کوئی نئی خوبی نئی خوبی نہیں بلکہ یہ سب تعلیم توریت میں یادر ہے : پائی جاتی ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ یہودیوں کی کتاب طالموت میں اب تک موجود ہے۔ اور یہودی فاضل اب تک روتے ہیں کہ ہماری پاک کتابوں سے یہ فقرے چرائے گئے ہیں۔ چنانچہ حال میں جو ایک فاضل یہودی کی کتاب میرے پاس آئی ہے اس نے اسی بات کا ثبوت دینے کے لئے کئی ورق لکھے ہیں اور بڑے زور سے اسناد پیش کئے ہیں کہ یہ فقرات کہاں کہاں سے چرائے گئے ۔ میں نے یہ کتابیں صرف میاں سراج الدین کے لئے منگوائی تھیں مگر ان کی بد قسمتی ہے کہ وہ دیکھنے سے پہلے چلے گئے ۔ محقق عیسائی اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ در حقیقت انجیل یہودیوں کی کتابوں کے ان مضامین کا ایک خلاصہ ہے جو حضرت مسیح کو پسند آئی لیکن بالآخر یہ کہتے ہیں کہ مسیح کے دنیا میں آنے سے یہ غرض نہیں تھی کہ کوئی نئی تعلیم لائے بلکہ اصل مطلب تو اپنے وجود کی قربانی دینا تھا یعنی وہی لعنتی قربانی جس کے بار بار کے ذکر سے میں اس رسالہ کو پاک رکھنا چاہتا ہوں ۔ غرض عیسائیوں کو یہ دھو کہ لگا ہوا ہے کہ شریعت تو ریت تک مکمل ہو چکی اس لئے یسوع کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ نجات دینے کے سامان لے کر آیا