تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 350

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۵۰ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ۲۴ وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو خواہ انسان ہو خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا ۔ کوئی رازق نہ ماننا کوئی مُعِزّ اور مذل خیال نہ کرنا کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اسی سے خاص کرنا ۔ اپنی عبادت اسی سے خاص کرنا ۔ اپنا تذلل اسی سے خاص کرنا۔ اپنی امیدیں اسی سے خاص کرنا ۔ اپنا خوف اسی سے خاص کرنا ۔ پس کوئی تو حید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی ۔ اول ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو هالكة الذات اور باطلة الحقيقت خیال کرنا ۔ دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا۔ اور جو بظاہر رب الانواع یا فیض رسان نظر آتے ہیں یہ اسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا ۔ تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گردانا اور اسی میں کھوئے جانا ۔ سو اس توحید کو جو تینوں شعبوں پر مشتمل اور اصل مدار نجات ہے یہودی لوگ کھو بیٹھے تھے۔ چنانچہ ان کی بد چلنیاں اس بات پر صاف گواہی دیتی تھیں کہ ان کے لبوں میں خدا کے ماننے کا دعوی ہے مگر دل میں نہیں جیسا کہ قرآن خود یہود و نصاری کو ملزم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر یہ لوگ تو ریت اور انجیل کو قائم کرتے تو آسمانی رزق بھی انہیں ملتا اور زمینی بھی یعنی آسمانی خوارق عادت اور قبولیت دعا اور کشوف اور الہامات جو مومن کی نشانیاں ہیں ان میں پائی جاتیں جو آسمانی رزق ہے اور زمینی رزق بھی ملتا مگر اب وہ آسمانی رزق سے بکلی بے نصیب ہیں اور زمین کا رزق بھی رو جق ہو کر نہیں بلکہ رو بہ دنیا ہو کر حاصل کرتے ہیں۔ سو دونوں ۳ رزقوں سے محروم ہیں ۔