تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 338

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۳۸ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب صحیح ہے کہ یسوع کی لعنتی قربانی پہلے گناہ کیلئے ہے تو مثلاً داؤد نبی نعوذ باللہ ہمیشہ کے جہنم کے لائق ٹھہرے گا کیونکہ اس نے اور یا کی جو رو سے بقول عیسائیوں کے زنا کر کے پھر اس عورت کو بغیر خدا کی اجازت کے تمام عمر اپنے گھر میں رکھا۔ اور وہی مریم کے سلسلہ اُمہات میں یسوع کی مقدس نانی ہے۔ علاوہ اس کے داؤد نے سوتک بیوی بھی کی جن کا کرنا بموجب اقرار عیسائیوں کے اس کو روا نہیں تھا۔ پس یہ گناہ اس کا پہلا گناہ نہ رہا بلکہ بار بار واقع ہوتا رہا اور ہر ایک دن نئے سرے اس کا اعادہ ہوتا تھا۔ پھر جبکہ منتی قربانی گناہ سے روک نہیں سکتی تو بے شک عام عیسائیوں سے بھی گناہ ہوتے ہوں گے جیسا کہ اب بھی ہو رہے ہیں ۔ پس بموجب اصول پولوس کے دوسرا گناہ ان کا قابل معافی نہیں اور ہمیشہ کا جہنم اس کی سزا ہے۔ اس صورت میں ایک بھی عیسائی دائمی جہنم سے نجات پانے والا ثابت نہیں ہوتا ۔ مثلاً میاں سراج الدین دور نہ جائیں اپنے حالات ہی دیکھیں کہ پہلے انہوں نے مریم کے صاحبزادے کو خدا کا بیٹا مان کر لعنتی قربانی کا بیٹسمہ پایا اور پھر قادیان میں آ کر نئے سرے مسلمان ہوئے اور اقرار کیا کہ میں نے بیٹسمہ لینے میں جلدی کی تھی اور نماز پڑھتے رہے اور بارہا میرے رو بروئے اقرار کیا کہ کفارہ کی لغویت کی حقیقت بخوبی میرے پڑھ بخوبی میرے پر کھل گئی ہے اور میں اس کو باطل جانتا ہوں اور پھر قادیان سے واپس جا کر پادریوں کے دام میں پھنس گئے اور عیسائیت کو اختیار کیا ۔ اب میاں سراج الدین کو خود سوچنا چاہیے کہ جب اوّل وہ بیٹسمہ پا کر عیسائی دین سے پھر گئے تھے اور قول اور فعل سے انہوں نے اس کے برخلاف کیا تو عیسائی اصول کے رو سے یہ ایک بڑا گناہ تھا جو دوسری دفعہ ان سے وقوع میں آیا۔ پس پولوس کے قول کے مطابق یہ گناہ ان کا بخشا نہیں جائے گا کیونکہ اس کے لئے دوسری صلیب کی ضرورت ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ پولوس نے غلطی کھائی ہے یا جھوٹ بولا ہے اور اصل بات