تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 316

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۱۶ جلسه احباب ۳۲ خداوند تعالی سے حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے بقائے دولت اور درازی عمر اور یہ کہ جس طرح حضور ممدوحہ نے ہم پر احسان کیا ہے خداوند تعالیٰ بھی حضور ممدوحہ پر احسان کرے اور الذین آمنوا میں داخل کرے یعنی اسلام کے آفتاب سے وہ بھی فیضیاب ہوں دعا کی گئی۔ صاحب چہارم ۔ میں نے ایک نوٹس اپنی جماعت کے لوگوں کو دے دیا تھا کہ سب صاح جو کم سے کم مقدرت رکھتے ہوں وہ بھی سو چراغ سے کم نہ جلائیں اور جن کے پاس اتنا خرچ کرنے کو نہ ہو وہ مجھ سے لے لیں ۔ چنانچہ پانچ اصحاب کو میں نے خرچ چراغا نہ دیا اور باقیوں نے خود چراغا نہ کیا۔ پنجم ۔ میرے متعلق جو سروانی کوٹ میں معافیدار تھے اُن کو بھی میں نے حکم دیا کہ چراغا نہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے بھی کیا اور یہ ایسا امر ہے کہ ریاست کے اور دیہات میں غالباً ایسا نہیں ہوا۔ ششم - ۲۳ جون کو اس خوشی میں آتش بازی چھوڑی گئی ۔ ہفتم ۔ ۲۲ جون کی شام کو معز ز ا حباب کی دعوت کی گئی ۔ ہشتم - ۲۳ کومساکین کو غلہ اور نقد خیرات کیا گیا۔ نہم ۔ ایک یادگار کے قائم کرنے کی بھی تجویز ہے ۔ جب اس کی بابت فیصلہ ہو گا وہ بھی عرض کروں گا۔ راقم محمد علی خان مالیر کوٹلہ ۲۵ جون ۱۸۹۷ء نوٹ ۔ ہم نے اپنی طرف سے سب احباب کے نام کوشش سے درج کرا دیئے ہیں ۔ اب اگر ایک دو نام رہ گئے ہوں تو سہو بشریت ہے۔ مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان با هتمام حکیم فضل الدین صاحب مالک مطبع مورخه ۲۸ جون ۱۸۹۷ء