تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 230

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۳۰ حجة الله وقالوا له يا شيخ وقتك قد مضى فأحسن إلينا بالسكوت وأطرق اور لوگوں نے کہا کہ اے شیخ تیرا وقت گزر گیا پس اپنی خاموشی سے ہم پر احسان کر ولما أصرّ على القيام وما نآى فقيل على عقبيك إنك تدمق پس جب اپنے قیام پر اصرار کیا اور دور نہ ہوا پس کہا گیا کہ پیچھے ہٹ جا تو بے اجازت کھڑا ہوتا ہے فما طاوع الأحرار حمقا وما انتهى فقالوا إِذًا صَهُ صَهُ وَلَا تَكُ مُقلِقٍ پس حماقت کی وجہ سے اس نے اچھوں کی بات کو نہ مانا اور باز نہ آیا پس لوگوں نے کہا کہ چپ رہ چپ رہ اور بے آرام نہ کر فلما أبي فنفاه صدر المُنتدى بزجر يليق بدى مكائد أَفْسَقِ پس جبکہ سرکشی کی تو میر مجلس نے اس کو نکال دیا اور اسے جھڑکی کے ساتھ نکالا جو فاسقوں کا علاج ہے أَهَانَ المُهيمنُ مَن أراد إهانتي فرمق وميض الحق إن كنت ترمق خدا نے اس شخص کو ذلیل کیا جو میری ذلت چاہتا تھا پس حق کی چمک کو دیکھ اگر دیکھ سکتا ہے يد الله تحمى نفس من هو صادق وإن المزوّر يضمحل ويزهق خدا کا ہاتھ صادق کی حمایت کرتا ہے اور جھوٹا مضمحل ہو جاتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے وتبقى رجال الله عند نهابر على النار تفنى الكاذبون كزيبق اور خدا کے مرد مصیبتوں کے وقت باقی رہتے ہیں اور جھوٹے آگ پر پارہ کی طرح فنا ہو جاتے ہیں إذا ما بدت نار من الله فتنة فكل كذوب لا محالة يُحْرَقِ جس وقت خدا کی آگ آشکارا ہوتی ہے پس ہر ایک جھوٹا جلایا جاتا ہے و من يُحرق الصدّيقَ حِبَّ مهيمن فطوبى لمن يصلى بنار التوَمُّقِ اور صدیق کو جو خدا کا دوست ہے کوئی جلا نہیں سکتا پس مبارک وہ جو دوستی کی آگ سے جلتا ہے ومن كذب الصديق خبثًا وَفِرْيَةً فيسفيه إعصار ويُخزى ويَسفُق جو شخص خباثت اور جھوٹ کی راہ سے صدیق کی توہین کرے یا ایک کردار کی ہواس کواڑا کر جاتی ارا کورس کرتی ہےاوراس کےمنہ پرطمانچہ رات ہے ومهما يكن حق من الله وَاضِحٌ وإِنْ رَدَّها زُمُرٌ مِّنَ النَّاس يبرق جس جگہ حق واضح ہو اگر چہ لوگ اس کو رد کریں تب بھی وہ چمک اٹھتا ہے ومَن كان مُفتريًا يُضَاع بسرعةٍ ويهلك كذاب بسم التَّخَلُّقِ اور مفتری جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور کاذب جھوٹ کے زہر سے مرجاتا ہے اور