تحفۂ قیصریہ — Page 212
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۱۲ حجة الله النوب، ثم هاجر إلى الهند مخذولا ملومًا، وعاش مطعونًا مكلوما ۔ ما زال به قطوب پے درپے مصیبتوں میں وقت گزاری کی ۔ پھر ملک ہند کی طرف اس حالت میں ہجرت کی کہ نشانہ ملامتوں کا تھا۔ اور مطعون اور الخطوب، وحروب الكروب، ولعن اللاعنين، وطعن الطاعنين، حتى تواترت المِحَنُ مجروح ہونے کی حالت میں زندگی گزاری۔ ہمیشہ حوادث سے ترش رو ہونا اسکے نصیب تھا اور بیقراریاں اس سے لڑ رہی تھیں اور وتكاثرت الفتن، وأقوى المجمع، ونبا المرتع ۔ وكان يُداس تحت هذه الشدائد حتى فاجأه لعنت کرنیوالوں کی لعنت اور طعن کرنیوالوں کا طعنہ۔ یہاں تک کہ محنتیں متواتر ہوئیں اور فتنے بہت ہوئے اور مجمع خالی ہو گیا ۔ الموت، وأخذه كالصائد الفوتُ، وأدخله في الزمر الفانيين ۔ فما ظنك أكان هو من اور چراگاہ دور جا پڑی اور ان مصیبتوں کے نیچے کچلا جارہا تھا کہ ایک دفعہ اس کو موت آگئی اور شکاری کی طرح اس کو وفات نے الصلحاء أو من الفاسقين؟ پکڑ لیا اور فانیوں میں اس کو داخل کر دیا۔ پس تیرا کیا گمان ہے۔ کیا وہ نیک تھا یا بدکار۔ پس ثابت ہوا کہ بدکاروں اور ظالموں کی فثبت أن لعن الفاسقين وأهل العدوان، لا يدل على سخط الرحمن، وإيذاء المفسدين وأهل لعنت خدا تعالیٰ کے غضب پر دلالت نہیں کرتی اور مفسدوں کا دکھ دینا صاحب اعمال صالحہ کے مراتب کو کم نہیں کرتا ۔ بلکہ ان الشرور، لا ينقص مراتب أهل العمل المبرور، بل يكون لعنهم وسيلة رحم حضرة الكبرياء ، ووصلة کی لعنت خدا تعالیٰ کے رحم کا وسیلہ ہو جاتی ہے۔ اور برگزیدگی کا سبب بن جاتی ہے اور اسی طرح آتھم کے فتنہ میں مجھے میرے الاجتباء والاصطفاء و كذلك بشرني ربي في تلك الفتنة، وإن شئت فارجع إلى "البراهين الأحمدية" خدا نے بشارت دی۔ اور اگر چاہے تو کتاب براہین احمدیہ کی طرف رجوع کر اور دیکھ کس طرح خدا نے اس میں اس قصہ کی خبر وانظر كيف أخبر ربى فيها عن هذه القصة، وأنبا من نبأ "آتم "وفتن النصارى ويهود دی اور اس پیشگوئی سے خبر دی جو آتھم کے بارے میں تھی اور نصاری کے فتنوں اور اس ملت کے یہود کے هذه الملة، وأخبر أن النصارى يمكرون بك في الأزمنة الآتية، ويهيجون فتنة عظيمة | فتنہ سے خبر دی اور یہ خبر دی کہ نصاری آئندہ زمانہ میں تجھ سے ایک مکر کریں گے اور ایک فتنہ عظیمہ برپا کریں گے۔