تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 198

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۹۸ حجة الله ۵۰ شيئا من المكائد والدقارير، ويفترون مجترئين ۔ ويريدون أن يُطفئوا أنوارهم، ويخربوا | کوئی چیز بھی اٹھا نہیں رکھتے اور جرات کے ساتھ افترا کرتے ہیں اور ارادہ رکھتے ہیں کہ ان کے نوروں کو بجھا دیں اور انکے گھر کو دارهم، ويحرقوا أشجارهم، ويُضيعوا ثمارهم، وكذلك يفعلون متظاهرين ۔ ويزمعون أن خراب کر دیں اور ان کے درختوں کو جلا دیں اور ان کے پھلوں کو ضائع کر دیں اور اسی طرح ایک دوسرے کی پسند ہو کر کرتے رہتے ہیں يدوسوهم تحت أقدامهم، ويُمزّقوهم بحسامهم، ويجعلوهم أحقر المحقرين ۔ فإذا تم أمر اور ارادہ کرتے ہیں کہ ان کو اپنے پیروں کے نیچے کچل دیں اور تلوار کے ساتھ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور سب ذلیلوں سے زیادہ التوهين والتحقير والإيذاء ، وظهر ما أراد الله من الابتلاء ، فيتموج حينئذ غيرة الله لأحبائه ذلیل کر دیں۔ پس جس وقت تو ہین اور ایڈا کا امر کمال کو پہنچ گیا اور جو ابتلا خدا کے ارادہ میں تھا وہ ہو چکا۔ پس اس وقت خدا تعالیٰ کی من السماء ، ويطلع الله عليهم ويجدهم من المظلومين، ويرى أنهم ظلموا وسبوا وشتموا | غیرت اس کے دوستوں کیلئے جوش مارتی ہے اور خدا انکی طرف دیکھتا ہے اور انکو مظلوم پاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ ظلم کئے گئے اور وكفروا من غير حق وأُوذوا من أيدى الظالمين ۔ فيقوم ليُتِمَّ لهم سنته، ويُريهم رحمته، ويؤيد گالیاں دیئے گئے اور ناحق کا فر ٹھہرائے گئے اور ظالموں کے ہاتھ سے دکھ دیئے گئے ۔ پس وہ کھڑا ہوتا ہے تاکہ ان کے لئے اپنی سنت عباده الصالحين ۔ فيلقى في قلوبهم ليقبلوا على الله كل الإقبال، ويتضرعوا في حضرته في پوری کرے اور اپنی رحمت کو دکھلائے اور اپنے نیک بندوں کی مدد کرے۔ پس انکے دلوں میں ڈالتا ہے تا کہ پورے طور پر خدا تعالیٰ کی الغدو والآصال، وكذلك جرت سُنّته فى المقرّبين المظلومين ۔ فتكون لهم الدولة والنصرة طرف متوجہ ہوں اور صبح شام اس کی جناب میں تضرع کریں اور اسی طرح اس کی سنت اس کے مقربین کی نسبت جاری ہے۔ پس في آخر الأمر، ويجعل الله أعداء هم طُعُمةَ الأسد والنمر، وكذلك جرت سنته آخر کار دولت اور مردان کے لئے ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ ان کے دشمنوں کو شیروں اور پلنگوں کی غذا کر دیتا ہے اور اسی طرح مخلصوں للمخلصين۔ إنهم لا يضاعون ويباركون، ولا يُحقرون ويُكرمون میں سنت اللہ جاری ہے وہ ضائع نہیں کئے جاتے اور برکت دیئے جاتے ہیں اور حقیر نہیں کئے جاتے اور بزرگ کئے جاتے ہیں