تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 180

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۸۰ حجة الله ۳۲) على ضر ومسغبة، واتبع النفس وترك التقى كأرض مُعطّلة أسر الغِلَّ ولكن ما نظر بعين اور بھوک پر صبر نہ کر سکا اور نفس کی پیروی کی اور پرہیز گاری کو زمین خالی کی طرح چھوڑ دیا اور کینہ کو پوشیدہ رکھا مگر خشمگین آنکھ سے نہ غَضْبَى، واختار النفاق في كل قدم وحابى، سجد لكل من تبرّع باللهى، ولو كان عدو الدين دیکھا اور نفاق کو ہر ایک قدم میں اختیار کیا اور خاص کیا جس نے بخشش کے ساتھ احسان کیا اس کو سجدہ کر دیا اگر چہ وہ دین اور تقوی کا دشمن والتقى، وإذا عُرض عليه حطام فقال لنفسه : ها ۔ وأثنى على الكافرين طمعًا في الموات، لا ہو اور جب کوئی مال دنیا اس پر پیش کیا گیا تو اپنے نفس کو کہا کہ لے لے اور زمین کے حاصل کرنے کیلئے کافروں کی تعریف کی نہ اس خیال خوفا من عقوبات الموات، وصلى خلفهم للصلات، لا لبركات الصلوة۔ اتخذ النفاق | سے کہ ان کی مخالفت سے عقوبت مرگ کا اندیشہ ہے۔ اور ان کے انعام کیلئے ان کے پیچھے نماز پڑھتا رہا نہ نماز کی برکتوں کیلئے نفاق کو طریقہ شرعة، والاقتباس منه نُجُعة، وصرف الله عنه المعارف، ولو كان زُمَرٌ مِن مَعارف ۔ فما بقى پکڑا اور اس کسب کو اپنی غذا پکڑی اور خدا نے اس سے لوگوں کے منہ پھیر دیئے اور اگر چہ وہ آشنا تھے۔ پس اس کے ساتھ صحابہ کے جوانمردوں معه من سروات الصحابة ولا سرايا الملة، حتى رجع مضطرًا ومخذولا إلى باب الصديق میں سے کوئی نہ رہا اور نہ اسلام کے لشکر میں سے کوئی اس کا ساتھی ہوا یہاں تک کہ بیقرار اور نا کام ہو کر ابو بکر صدیق کے دروازے پر آیا اور جانتا وكان يعلم أنه كالزنديق لكن البطن ألجأه إليه، وما وجد حطب تَنُّورِ المَعِدة إلا لديه ۔ وإن تھا کہ یہ زندیقوں کی طرح ہے۔ مگر پیٹ نے اس کو اس کی طرف جانے کیلئے بیقرار کر دیا اور اپنے معدہ کے تنور کا ایندھن اس نے اسی کے صاحبه اغتال بعض ولده، فما امتنع من التردد إليه، وفجعه بالفدك فما غار عليه، بل كان پاس پایا اور عمر نے اسکی بعض اولاد کو قتل کر دیا مگر وہ پھر بھی اس کی طرف جانے سے باز نہ آیا اور ابوبکر نے فدک کے معاملہ میں اس کو درد على بابه كالمعتكفين ۔ وتواتر عليه جور الشيخين، حتى جرت عبرة العينين كالعينين، فما پہونچایا مگر پھر بھی اس کو غیرت نہ آئی اور ابوبکر کے دروازے پر اعتکاف کر نیوالوں کی طرح پڑا رہا اور اس پر شیخین کا ظلم متواتر ہوا یہاں انتهى من الرجوع إلى هذين الكافرين، بل أبدى الإطاعة بالنفاق والمين۔ تک کہ آنکھوں سے آنسوؤں کے چشمے جاری ہوئے مگر وہ ان کے پاس جانے سے باز نہ آیا بلکہ نفاق اور جھوٹھ سے اطاعت کو ظاہر کیا۔