تحفۂ قیصریہ — Page 178
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۷۸ حجة الله ٣٠ وأدبهم، وكانوا عليها مُصرّين، ومكروا ومكر الله والله خير الماكرين۔ اور اس پر اصرار کیا۔ اور انہوں نے مکر کیا اور خدا نے بھی مکر کیا اور خدا سب سے بہتر مکر کرنے والا ہے۔ فو الله ما فكرت في الإملاء والإنشاء ، وما كنت من الأدباء والفصحاء ، وما احتاج يراعى | پس بخدا میں نے املا اور انشاء میں کچھ فکر نہیں کیا اور میں ادیبوں میں سے نہیں تھا اور میری قلم کسی مددگار کی محتاج نہیں ہوئی ۔ إلى من يُراعى كالرفقاء ، بل كنتُ لا أعلم ما البلاغة والبراعة، ولا أدرى كيف تحصل هذه بلکہ میں نہیں جانتا تھا کہ بلاغت کسے کہتے ہیں اور نہیں جانتا تھا کہ یہ صناعت کیونکر حاصل ہوتی ہے۔ پس اس حالت میں کہ میں اس الصناعة ۔ فبينما أنا في حيرة من هذه الإزراء ، وقد تواتر طعنهم كالسفهاء ، إذ صُبّ على قلبي | نکتہ چینی سے حیرت میں تھا اور ان کا طعن سفیہوں کی طرح تواتر تک پہنچ چکا تھا پس یکدفعہ ایک نور میرے دل پر ڈالا گیا اور ایک چہ چیز نور من السماء ، ونزل على شيء كنزول الضياء ، فصرتُ ذا مَقْول جرى، وقول سحباني روشنی کی طرح اتری۔ پس میں صاحب زبان رواں اور صاحب قول سحبان وائل ہو گیا ۔ پس مبارک ہے وہ خدا جو احسن الخالقین ہے فتبارك الله أحسن الخالقين ۔ ولكن ما تسلّت به عمايات هذه العلماء ، وظنوا أن رجلا لیکن اس کے ساتھ ان علماء کی نا بینائی دور نہ ہوئی اور گمان کیا کہ ایک شخص نے میری مدد کی ہے یا ایک گروہ نے فضلاء میں سے مدد کی أعانني أو جمعًا من الفضلاء ، وأنها ثمرة شجرة الآخرين ۔ ثم بدا لهم أن يُعارضوني مشافهين ہے اور وہ فصاحت اوروں کے درخت کا پھل ہے۔ پھر ان کو یہ سوجھی کہ دو بدو مجھ سے مقابلہ کریں۔ پس جب میں کھڑا ہوا تو گویا وہ فإذا قمت فكأنهم كانوا من الميتين ۔ والآن ما بقى فى كفهم إلا الرفث والإيذاء ، وكذالك | میت تھے اور اب ان کے ہاتھ میں بجز گالیوں اور ایڈا کے اور کچھ باقی نہیں رہا اور اسی طرح نجفی نے مجھے گالیاں دیں اور نہیں جانتا کہ حیا سبني النجفي وما يدرى ما الحياء ۔ ولكنا لا ندفع السب بالسبّ، وما كان لحمام أن يُحجر کیا چیز ہے مگر ہم گالی کو گالی کے ساتھ جواب نہیں دیتے اور کبوتر کی شان میں یہ داخل نہیں کہ اس سوراخ میں داخل ہو جس میں سو سمار نفسه كالضب، أو كالتنين ۔ وما نشكوه على ما فعل، ولا نتأسف على ما افتعل، فإنهم قوم | داخل ہوتی ہے یا سانپ اور ہم اس شخص کا اسکے کام پر کچھ کو نہیں کرتے اور نہ اسکے بہتان پر کچھ افسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں