تحفۂ قیصریہ — Page 160
روحانی خزائن جلد ۱۲ ١٦٠ حجة الله اور پھر ایک اور صاحب اپنا نام شیخ نجفی ظاہر کر کے میرے مقابل پر آئے ہیں۔ اور مجھے کذاب اور دجال اور جاہل ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خسوف و کسوف کا نشان قیامت کو ظاہر ہوگا نہ اب۔ اس نادان کو یہ بھی خبر نہیں کہ اگر خسوف کسوف بطور نشان مہدی ظاہر ہوگا جیسا کہ دار قطنی وغیرہ کتب حدیث میں درج ہے تو قیامت کو اس نشان سے فائدہ کون اٹھائے گا بلکہ اس وقت تو مہدی کا آنا ہی لا حاصل ہوگا۔ جب خدا نے ہی نظام شمسی کو توڑ کر خلقت کا خاتمہ کرنا چاہا تو کون مہدی اور کہاں کے اس کے نشان ۔ وہ تو قیامت کا زمانہ آ گیا۔ اس میں کس کو کلام ہو سکتا ہے کہ مہدی کا زمانہ تجدید کا زمانہ ہے اور خسوف کسوف اس کی تائید کیلئے ایک نشان ہے۔ سو وہ نشان اب ظاہر ہو گیا۔ جس کو قبول کرنا ہو قبول کرے اور جیسا کہ حدیث میں لکھا تھا چاند گرہن اس پہلی رات میں ہوا جو چاند کی تین راتوں میں سے پہلی رات ہے اور سورج گرہن ان دنوں کے نصف میں ہوا جو سورج گرہن کیلئے مقرر ہیں اور اس طرح یہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوگئی ۔ چونکہ زمانہ کے علماء سورج اور چاند کی طرح ہوتے ہیں۔ سو اس پیشگوئی میں یہ اشارہ تھا کہ سورج اور چاند کا کسوف خسوف علماء کے دلوں کی تاریکی پر شاہد ہے کہ جو کچھ زمین میں ہوتا ہے آسمان اس کو دکھلا دیتا ہے۔ اور پھر یہی صاحب اپنے خط عربی میں جوژولیدہ زبانی سے بھرا ہوا ہے مجھ کو لکھتے ہیں کہ اگر تو میرے مقابل پر آوے تو میں اپنا علم عربی تجھ کو دکھلاؤں حالانکہ ان کے اسی عربی خط سے ان کے علم کا بخوبی اندازہ ہو گیا اور معلوم ہو گیا کہ بجز چند چرائے ہوئے فقروں اور مسروقہ الفاظ کے ان کی کیونکہ جو شخص عظمت اسلامی کو رد نہیں کرتا بلکہ اس کا خوف اس پر غالب ہوتا ہے وہ ایک طور سے اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے اور اگرچہ ایسار جوع عذاب آخرت سے بچا نہیں سکتا مگر عذاب دنیوی میں بے باکی کے دنوں تک ضرور تا خیر ڈال دیتا ہے۔ یہی وعدہ قرآن کریم اور ہیل میں موجود ہے اور جو کچھ ہم نے مسٹر عبد اللہ آتھم کی نسبت اور اس کے دل کی حالت کے بارے میں بیان کیا یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ مسٹر عبداللہ آتھم نے اپنے تئیں سخت مسٹر عبد اللہ آتھم نے اپنے تئیں سخت مصیبت زدہ بنا کر اور اپنے تئیں شدائد غربت میں ڈال کر اور اپنی زندگی کو ایک ماتمی پیرایہ پہنا کر اور ہر روز خوف اور ہر اس کی حرکات صادر کر کے اور ایک دنیا کو اپنی پریشانی اور دیوانہ پن دکھلا کر نہایت صفائی سے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اس کے دل نے اسلامی عظمت اور صداقت کو قبول کر لیا ۔ کیا یہ بات جھوٹ ہے کہ اس نے پیشگوئی کے رعب ناک مضمون کو بقيه حاشيه