تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 141

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۴۱ حجة الله ضمیمه بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَجَّةُ الله نحمده و نصلی علی رسوله الكريم قُتِلَ الانسان ما أكفره أيها الناظرون، والأدباء المنقدون - أنتم تعلمون أني كتبت من قبل هذا كتبًا ای بینندگان و ادبیبان در مغشوش و غیر مغشوش فرق کنندگان شما می دانید که من پیش از میں چند کتابها در عربی نوشته ام اے دیکھنے والو اور کلام کے کھوٹے اور کھرے میں فرق کرنے والو تم جانتے ہو کہ میں نے پہلے اس سے چند کتابیں عربی في العربية، وزينتها كالبيوت المشيدة المزدانة، ورأيتم أنها تحكى الدرر و آن کتاب ها را چناں زینت دادم که خانه بازینت داده و بلند کرده میشوند و شما دیده اید که آن کتابها میں لکھی تھیں اور ان کتابوں کو میں نے ایسی زینت دی تھی جیسا کہ گھروں کو زینت دیا جاتا اور بلند کیا جاتا ہے۔ اور تم نے العمانية، وتحسى الدرر العرفانية ۔ وكنت أتوقع أن العلماء يعدونها من در ہائے عمانی را میمانند و شیر ہائے معرفت مینوشانند و من توقع میداشتم که علماء آں تالیف ہا را از دیکھا ہے کہ وہ کتابیں موتیوں سے مشابہت رکھتی ہیں اور معرفت کا دودھ پلاتی ہیں اور میں امید رکھتا تھا کہ مولوی لوگ الآيات، ويعقدون لِزَورى حبّك النطاق بصحة النيّات، وما زلتُ أسلّى بالى جمله نشانها خواهند شمرد و برائے دیدن من ازار بند پارچه کمر خود بصحت نیت خواهند بست و من همیشه ان کتابوں کو منجملہ نشانوں کے شمار کریں گے اور میرے دیکھنے کیلئے اپنی کمر کو صحت نیت کے ساتھ باندھیں گے اور میں ہمیشہ بهذا الأمل، حتى وجدتهم فاسد النية والعمل، وبدا أن فراستي قد أخطأت دل خود را بدین امید بے غم میکردم تا آنکه اوشان را نیت و عمل تباه یافتم و ظاهر شد که فراست من اس امید کے ساتھ دل کو تسلی دیتا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے ان کو نیت اور کام میں خراب پایا اور ظاہر ہو گیا کہ میری و أعين العلماء ما انفتحت، وتراءى اليأس وآثار الرجاء انقطعت، وبلغ الأمر خطا کرد و چشمہا ئے علماء کشاده نشدند و نومیدی ظاهر شد و نشان امید منقطع شدند - و کار بجائے رسید فراست خطا گئی اور مولویوں کی آنکھیں نہیں کھلیں اور نومیدی ظاہر ہو گئی اور امید کی نشانیاں منقطع ہو گئیں اور اس حد تک