تحفۂ غزنویہ — Page 563
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۶۳ تحفه غزنویه وفات یافتہ روحوں میں دیکھا ہے اور ایک سو پچیس برس کی عمر جو حدیثوں میں بیان کی گئی ہے وہ صاف کہتی ہے کہ حضرت عیسی اس قدر زمانہ گذرنے کے بعد ضرور فوت ہو گئے ہیں ایسا ہی وہ حدیث کنز العمال کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صلیب کے بعد حضرت عیسی دوسرے ملک میں چلے گئے اس کی مؤید ہے تو پھر یہ کس قدر خدا اور اُس کے رسول پر افترا ہے کہ آپ لوگ اب تک اس جھوٹے عقیدہ سے باز نہیں آتے ۔ اگر دنیا میں وہی مسیح دوبارہ آنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ اس کو وفات یافتہ نہ کہتا اور حدیث میں کسی جگہ اس بات کی صراحت ہوتی کہ حضرت عیسی زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے ہیں اور کسی وقت زندہ مع جسم عنصری اُتریں گے۔ مگر اب تو تمام حدیثیں دیکھ لی گئیں اس بات کا پتہ نہیں ملتا کہ کسی وقت حضرت عیسی علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر زندہ مع جسم آسمان پر سے اُتریں گے ۔ اور اُترنے والے کی صفت میں یہ تو لکھا ہے کہ امامکم منکم مگر یہ نہیں لکھا کہ امامكم من انبیاء بنی اسرائیل۔ اب سوچو کہ افترا کی لعنت کسی پر قرآن اور حدیث دونوں کرتے ہیں ہم پر یا تم پر ۔ اگر ۳۳) ہمارے اس ثبوت کا کچھ جواب ہے تو پیش کرو ورنہ تم بلا شبہ خدا کے نزدیک مفتری ہو۔ اور پھر اسی پر بس نہیں بات بات میں تمہارے افترا ظاہر ہیں اور تمہاری زبانیں جھوٹ سے پلید ہیں ۔ بھلا بتلاؤ کہ مباہلہ کے بارے میں جو میرے ساتھ تم نے کیا تھا کس قدر بار بار تم نے جھوٹ بولا اور کہا کہ مباہلہ میں مجھ کو فتح ہوئی ۔اے سچائی کے دشمن اور حیا کے ترک کرنے والے سوچ اور سمجھ کہ خدا نے تو اُسی وقت اُسی مقام میں منشی محمد یعقوب کی گواہی سے تجھے ذلیل کیا۔ کیا یہی تیری فتح تھی کہ تیرے ہی اُستاد عبداللہ غزنوی نے میری سچائی کی گواہی دے دی ۔ اب اگر میں مفتری ہوں اور قیامت اور حساب اور دوزخ پر مجھے ایمان نہیں تو تجھے ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ عبداللہ غزنوی