تحفۂ غزنویہ — Page 556
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۵۶ تحفہ غزنویه موقع کے سمجھنے میں غلطی بھی کر سکتا ہے چنانچہ علماء اس پر دلیل حدیث ذَهَبَ وَهْلِی کو پیش کرتے ہیں جو بخاری میں موجود ہے۔ اور اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کسی تاویل کی غلطی سے پیشگوئی غلط نہیں ٹھہر سکتی اور نہ غیر الہامی ٹھہر سکتی ہے پس جب نبیوں کی پیشگوئی میں یہاں تک وسعت ہے کہ نبی کے غلط معنے پیشگوئی کو کچھ حرج نہیں پہنچاتے تو پھر اعتراض اُسی صورت میں ہو گا جبکہ الہام کا اسی کے الفاظ سے غلط ہونا ثابت ہو جائے ۔ قوله - مرزا یقینا جانتا ہے کہ اس فضول کام کے لئے نہ کسی نے آنا ہے اور نہ یہ کام ہونا ہے مفت کی میری شیخی مشہور ہو جائے گی ۔ اقول ۔ اے نا سمجھ خدا سے ڈر کیا دین کے کام کو فضول کام کہتا ہے کیا خدا کے نبی فضول کام میں ہی مشغول رہے۔ اے عزیز ! کیا یہ کام فضول ہے جس سے ہزار ہا جانیں جھوٹ اور ضلالت سے نجات پاتی ہیں اور اندرونی تفرقہ اس اُمت کا جس نے مسلمانوں کو کمزور کر دیا ہے دور ہوتا ہے۔ اگر یہ کام فضول ہے تو کیا دوسرے کام شریعت کے لئے ضروری تھے جو آپ لوگ کر رہے ہیں۔ مثلاً نذیر حسین دہلوی با وجود پیرانہ سالی کے شیخ محمد حسین بٹالوی کے لڑکے کی شادی پر بٹالہ آیا اور سیالکوٹ کے ضلع تک گیا ۔ بجز کھانے پینے کے اور کیا غرض تھی ۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اسی وجہ سے انحطاط میں ہے کہ حال کے مولوی ضروری کاموں کا نام فضول کام رکھتے ہیں اور اپنی نفسانی تجارتوں کے لئے عدن اور مسقط تک سیر کر آتے ہیں اس کو کوئی فضول نہیں سمجھتا مگر تائید اسلام کے کاموں کو غیر ضروری سمجھتے ہیں اور یوں گوشت پلاؤ کھانے اور شادیوں کی دعوتوں میں شامل ہونے کے لئے صد ہا کوس چلے جاتے ہیں۔ یہ خوب دینداری ہے کہ یوں تو ملک میں شور مچا رہے ہیں کہ گویا اس جماعت میں داخل ہو کر تمیں ہزار آدمی کافر ہوگیا اور ہوتا جاتا ہے اور جب