تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 550 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 550

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۵۰ تحفہ غزنویه تو یہ تمہاراحمق ہے کہ ایسا خیال کرو کیونکہ پیشگوئی شرطی تھی اور شرط کے تحقق نے میعاد کی رعایت کو باطل کر دیا تھا اور نیز میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یونس نبی کو سچا نبی مانتے ہو یا نہیں اس کی پیشگوئی کیوں خطا گئی اس میں تو کوئی شرط بھی نہ تھی پھر اگر حیا اور ایمان ہے تو شرطی پیشگوئیوں پر کیوں اعتراض کرتے ہو۔ دیکھو یو نہ نبی کی کتاب اور در منثور کہ کیسے یونہ نبی کو پیشگوئی کے خطا جانے سے تکالیف اٹھانی پڑیں ۔ اب یونس کو مجھ سے زیادہ تر برا کہو کہ اُس کی قطعی پیشگوئی جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی خطا گئی ۔ اے نادانو ! اسلام پر کیوں تبر چلاتے ہو حق یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئی میں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہوتا ہے کہ تو بہ اور استغفار اور رجوع سے اس میں تاخیر ڈال دے گو اس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ ہو ۔ اگر ایسا نہ ہو تو تمام صدقات اور خیرات اور دعوات باطل ہو جائیں گی اور یہ اصول جو تمام نبیوں کا مانا ہوا ہے کہ يُرَدُّ القَضَاءُ بِالصَّدَقَاتِ وَالدُّعَاء صحیح نہیں رہے گا ۔ ماسوا اس کے ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ میرا اور ڈپٹی آتھم کا مقابلہ کسی میرے دعوے کے متعلق نہ تھا۔ اس تمام بحث کا خلاصه مطلب یہی تھا کہ آتھم یہ کہتا تھا کہ عیسائی دین سچا ہے اور نعوذ باللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مفتری ہیں اور قرآن خدا کا کلام نہیں بلکہ انسان کا افترا ہے ۔ اور میں کہتا تھا کہ عیسائی مذہب اپنی اصلیت پر قائم نہیں اور تثلیث و کفارہ وغیرہ سب باطل ہیں ۔ پس جب پندرہ دن بحث کے ختم ہو گئے تو آخری دن میں جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے الہام کیا میں نے اُسی مجلس بحث میں جس میں سنترے سے زیادہ مسلمان اور عیسائی موجود ہوں گے آتھم کو مخاطب کر کے کہا کہ تم نے اپنی کتاب میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دجال رکھا ہے اور اسلام کو جھوٹا مذہب ٹھہرایا ہے اور دیکھو اس وقت تم نے عیسائی مذہب کے