تحفۂ غزنویہ — Page 311
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۱۱ تریاق القلوب طرف سے کھڑا کیا گیا تھا اور پولیس کی غرض یہ تھی کہ اس میں کوئی سزا یا کم سے کم کوئی سنگین ضمانت ہو جائے ۔ منشی محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ کی طرف سے اس کی بنیاد پڑی ۸۰ اور ہم قبول کرتے ہیں کہ منشی صاحب مذکور نے اپنی سمجھ اور اپنی نیک نیتی کی حد تک اس طرح پر اپنے فرض منصبی کو ادا کرنا چاہا لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کے علم میں تھا کہ مجھ سے کوئی حرکت مجرمانہ نہیں ہوئی ۔ اس لئے اُس نے پیش از وقت مجھے تسلی دی اور مجھے خبر دی کہ اس مقدمہ میں اہل پولیس اپنے اغراض میں ناکام رہیں گے اور محمد حسین یٹر اشاعۃ السنہ کا آئندہ کے لیے بد زبانی سے منہ بند کیا جائے گا ۔ اور ابھی مسٹر ڈوئی صاحب عدالت کی کرسی پر اجلاس فرما کر شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی کو فہمائش کر رہے تھے کہ آیندہ وہ تکفیر اور بد زبانی سے باز رہے۔ اور سید بشیر حسین صاحب ایڈیٹر ☆ اور منشی محمد بخش صاحب ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ عدالت میں حاضر تھے کہ اُسی وقت رسالہ حقیقت المہدی جس کے صفحہ ۱۲ پر یہ پیشگوئیاں ہیں عین عدالت کے کمرہ میں مولوی فضل مل دین صاحب پلیڈر چیف چیف کو کورٹ اور رمسٹر مسٹر برونه برون صاحب پلیڈر چیف کورٹ کے ہاتھ میں دیا گیا تھا اور وہ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے عدالت کے سامنے ان پیشگوئیوں کو پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اس وقت یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور کمرہ سے باہر نکل کر مسٹر یہ عجیب کا روبار قدرت ہے کہ محمد حسین کو مسٹر ڈوئی صاحب نے مقدمہ سے اس غرض سے الگ کر دیا تھا کہ جو اس کی نسبت الزام ہے اس کی بعد میں تحقیقات ہو گی لیکن میرے مقدمہ کی اخیر پیشی پر خود بخود محمد حسین بغیر کسی تعلق کے محض تماشا دیکھنے کے لئے حاضر عدالت ہو گیا ۔ تب عدالت نے اس کو حاضر پا کر بلا توقف اس سے اس مضمون کے نوٹس پر دستخط کرا لئے کہ آیندہ وہ بد زبانی اور گالیوں اور تکفیر اور تکذیب سے باز رہے گا ۔ سو اس کو اس وقت کسی نے بلا یا نہیں تھا محض خدا کا ارادہ اس کو کھینچ کر لایا تا اس کا یہ پاک الہام پورا ہو کہ محمد حسین کا منہ بد زبانی سے بند کیا جائے گا ۔ منہ