تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 245

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۴۵ تریاق القلوب اور سرینگر میں یہ واقعہ عام طور پر مشہور ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی یہ قبر ہے اور اس مزار کا زمانہ تخمینا دو ہزار برس بتلاتے ہیں اور عوام اور خواص میں یہ روایت بکثرت مشہور ہے کہ یہ نبی شام کے ملک سے آیا تھا۔ غرض یہ دلائل اور حقائق اور معارف ہیں جو عیسائی مذہب کے باطل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر ثابت کئے جن کو میں نے اپنی تالیفات میں بڑے بسط سے لکھا ہے اور ظاہر ہے کہ ان روشن دلائل کے بعد نہ عیسائی مذہب قائم رہ سکتا ہے اور نہ اُس کا کفارہ ٹھہر سکتا ہے بلکہ اس ثبوت کے ساتھ یہ عمارت یکدفعہ گرتی ہے کیونکہ جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا مصلوب ہونا ہی ثابت نہ ہوا تو کفارہ کی تمام اُمیدیں خاک میں مل گئیں ۔ اور یہ وہ فتح عظیم ہے جو حدیث کسر صلیب کی منشاء کو کامل طور پر پورا کرتی ہے اور وہ کام جو سیح موعود کو کرنا چاہیے یہی کام تھا کہ ایسے دلائل واضح سے عیسائی مذہب کو گرادے نہ یہ کہ تلواروں اور بندوقوں سے لوگوں کو قتل کرتا پھرے۔ اور یہ فتح صرف ایک شخص کے نام پر مقدر تھی جو عین وقت فتنہ صلیب میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا اور یہ فتح اس کے ہاتھ سے کامل طور پر ظہور میں آگئی ۔ اب کسی کا سر الصلیب اور مسیح موعود کی انتظار کرنا عبث اور طلب محال ہے کیونکہ جن حقائق کے کھلنے سے عیسائیت کو شکست آتی تھی وہ حقائق بفضلہ تعالیٰ میرے ہاتھ پر کھل گئے ۔ اب کسی دوسرے مسیح کے لئے کوئی روحانی کام باقی نہیں اور صرف تلواروں سے خونریزی کرنا اور جبر سے کلمہ پڑھانا کوئی ہنر کی بات ۵۳﴾ نہیں بلکہ یہ فعل تو ڈاکہ مارنے والوں کے فعلوں سے مشابہ ہے۔ یہ کیسی جہالت ہے جو بعض نادان مسلمانوں کے دلوں میں متمکن ہے کہ وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اُن کا مسیح موعود اور مہدی معہود جبرا لوگوں کو مسلمان کرے گا اور تلوار سے دین کو پھیلائے گا۔