تحفۂ غزنویہ — Page 240
۵۱ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۴۰ تریاق القلوب قبول نہ کرتا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا سولی پر مرجانے کا واقعہ صحیح ہے کیونکہ اس سے صرف یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ حضرت مسیح اپنی اس مشابہت قرار دینے میں جھوٹے ٹھہرتے ہیں اور مشابہت سراسر غلط ثابت ہوتی ہے بلکہ یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ ان بیلوں گدھوں کی طرح لعنتی بھی ہو گئے جن کی نسبت توریت میں مار دینے کا حکم تھا اور نعوذ باللہ ان کے دل میں لعنت کی وہ زہر سرایت کر گئی جس نے شیطان کو ہمیشہ کے لئے ہلاک کیا ہے۔ لیکن موجودہ انجیلوں میں سے وہ انجیلیں بھی اب تک موجود ہیں جیسا کہ انجیل برنباس جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے سولی ملنے سے انکار کیا گیا ہے اور ان چار انجیلوں کو دوسری انجیلوں پر کچھ ترجیح نہیں کیونکہ یہ سب انجیلیں حواریوں کے زمانہ کے بعد بعض یونان کے لوگوں نے بے سروپا روایات کی بنا پر لکھیں ہیں اور ان میں حضرت مسیح کے ہاتھوں کی کوئی انجیل نہیں بلکہ حواریوں کے ہاتھوں کی بھی کوئی انجیل نہیں اور یہ بات قبول کی گئی ہے کہ انجیل کا عبرانی نسخہ دنیا ۔ نسخہ دنیا سے مفقود ہے۔ ماسوا اس کے یہ چاروں انجیلیں جو چوسٹھ انجیلوں میں سے محض تحکم کے طور پر اختیار کی گئی ہیں اُن کے بیانات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوا۔ چنانچہ ہم اپنے رسالہ مسیح ہند میں میں اس بحث کو صفائی سے طے کر چکے ہیں ۔ اور ان انجیلوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ایک باغ میں اپنی رہائی کے لئے تمام رات دعا کرتے رہے اور اس غرض اور مدعا سے کہ کسی طرح سولی سے بچ جائیں ساری رات رونے اور گڑ گڑا نے ا انے اور سجدہ کرنے میں گذری۔ اور یہ غیر ممکن ہے کہ جس نیک انسان کو یہ توفیق دی جائے کہ تمام رات دردِ دل سے کسی بات کے ہو جانے کے لئے دعا کرے اور اُس دعا کے لئے اس کو پورا جوش عطا کیا جائے اور پھر وہ دعا نا منظور اور نا مقبول ہو ۔ جب سے کہ دنیا کی بنیاد پڑی اُس وقت سے آج تک اس کی