تحفۂ غزنویہ — Page 231
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۱ ۲۳۱ تریاق القلوب جو نامی آدمی تھے جیسا کہ میاں نذیر حسین دہلوی اور ابوسعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعة السنه ان لوگوں کو بار بار اس امر کی طرف دعوت کی گئی کہ اگر کچھ بھی ان کو علم قرآن میں دخل ہے یا زبان عربی میں مہارت ہے یا مجھے میرے دعوی مسیحیت میں کا ذب سمجھتے ہیں تو ان حقائق و معارف پر از بلاغت کی نظیر پیش کریں جو میں نے کتابوں میں اس دعوی کے ساتھ لکھے ہیں کہ وہ انسانی طاقتوں سے بالاتر اور خدا تعالیٰ کے نشان ہیں مگر وہ لوگ مقابلہ سے عاجز آگئے ۔ نہ تو وہ ان حقائق معارف کی نظیر پیش کر سکے جن کو میں نے بعض قرآنی آیات اور سورتوں کی تفسیر لکھتے وقت اپنی کتابوں میں تحریر کیا تھا اور نہ ان بلیغ اور فصیح کتابوں کی طرح دو سطر بھی لکھ سکے جو میں نے عربی میں تالیف کر کے شائع کی تھیں۔ چنانچہ جس شخص نے میری کتاب نور الحق اور کرامات الصادقین اور سر الخلافة اور اتمام الحجة وغيره رسائل عربیہ پڑھے ہوں گے اور نیز میرے رساله انجام آتھم اور نجم الهدی کی عربی عبارت کو دیکھا ہوگا وہ اس بات کو بخوبی سمجھ لے گا کہ ان کتابوں میں کس زور شور سے بلاغت فصاحت کے لوازم کے لوازم کو نظم اور نثر میں بجا لایا گیا ہے اور پھر کس زور شور سے تمام مخالف مولویوں سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ علم قرآن اور بلاغت سے کچھ حصہ رکھتے ہیں تو ان کتابوں کی نظیر پیش کریں ور نہ میرے اس کاروبار کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر میری حقیت کا نشان اس کو قراردیں لیکن افسوس کہ ان مولویوں نے نہ تو انکار کو چھوڑا اور نہ میری کتابوں کی نظیر بنانے پر قادر ہو سکے۔ بہر حال ان پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہوگئی اور وہ اُس الزام کے نیچے آگئے جس کے نیچے تمام وہ منکرین ہیں جنہوں نے خدا کے مامورین سے سرکشی کی۔ تخمیناً عرصہ میں برس کا گذرا ہے کہ مجھ کو اس قرآنی آیت کا الہام ہوا تھا اور وہ یہ ہے ۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدًى وَدِيْنِ الْحَقِّ