تحفۂ غزنویہ — Page 158
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۵۸ ۱۳۰۰ تریاق القلوب اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے یعنی تیرہ سو کا عدد جو اس نام سے نکلتا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا جس کا نام تیرہ سو کا عدد پورا کرتا ہے۔ مگر آپ لوگوں کی اب تک آنکھ نہیں کھلی ۔ آپ لوگ اسلام کی ہمدردی کے یہی معنے سمجھتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو ایسے شخص کو جس کے منہ سے اسلام کی مخالفت اور توہین کا کلمہ نکلے سزادی جائے یا دلائی جائے جيسا كه أمهات المؤمنین کے شائع ہونے کے وقت میں بھی یہی کارروائی کی گئی اور گورنمنٹ کو جتلایا گیا کہ ہم اس کتاب کا جواب لکھنا نہیں چاہتے صرف سزا دلانا چاہتے ہیں ۔ مگر چونکہ ایسی درخواست اس صورت میں قابل توجہ ہو سکتی تھی کہ کتاب مذکور قانون سڈیشن کے نافذ ہونے کے بعد تالیف ہوتی اس لئے وہ درخواست نامنظور ہوئی۔ اور یہ تو خود آپ لوگ اشارہ اقرار کر چکے کہ ہم رڈ لکھنا نہیں چاہتے ۔ تو گویا نہ ادھر کے رہے اور نہ اُدھر کے رہے۔ غرض یہ عادت جوش اور اشتعال اور انتظام طلی کی اچھی نہیں۔ اس سے اسلام بدنام ہو رہا ہے۔ یا د رکھو کہ اب جو شخص مسیح موعود اور مہدی معہود کے نام پر آوے اور لیاقت صرف اتنی ہو کہ لوگوں کو تلوار کا خوف دکھلا کر مسلمان کرنا چاہے تو بلا شبہ وہ جھوٹا ہوگا نہ صادق ۔ جن کے ہاتھ میں خدا تعالیٰ سچائی اور آسمانی نشانوں کی تلوار دیتا ہے اُن کو اس لوہے کی تلوار کی کیا ضرورت ہے ۔ یہ جہالت اور سخت نادانی ہے کہ اس زمانہ کے نیم ملا فی الفور کہہ دیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبراً مسلمان کرنے کے لئے تلوار اُٹھائی تھی اور انہی شبہات میں ناسمجھ پادری گرفتار ہیں۔ مگر اس سے زیادہ کوئی جھوٹی بات نہیں ہوگی کہ یہ جبر اور تعدی کا الزام اُس دین پر لگایا جائے جس کی پہلی ہدایت یہی ہے کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ کے یعنی دین میں جبر نہیں چاہیے بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بزرگ صحابہ کی لڑائیاں یا تو اس لئے تھیں کہ کفار کے حملہ سے اپنے تئیں بچایا جائے اور یا اس لئے تھیں کہ امن قائم کیا جائے۔ اور جو لوگ تلوار سے دین کو روکنا چاہتے ہیں ان کو تلوار سے پیچھے ہٹایا جائے مگر اب کون مخالفوں میں سے دین کے لئے تلوار اُٹھاتا ہے اور البقرة: ۲۵۷