تجلیاتِ الہٰیہ — Page 544
شہزادہ عبداللطیف کیلئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہوچکی <mark>اب</mark> ظالم کا پاداش باقی ہے ۶۰ اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہونگے ۷۴ شاتان تذبحان کے الہام کے تحت بکری کی دو صفات دودھ دینا اور اس کا گوشت کھایا جانا یہ دونوں صفتیں مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے پوری ہوئیں ۷۲ مقربین الہٰی کلمہ حق کا انکار نہیں کرتے خواہ آگ میں پھینکے جائیں اس کی مثال عبداللطیف شہید ک<mark>اب</mark>ل ہیں ۱۱۳ آپ کی جاں نثاری صدق ووفا اوراستقامت کے آگے پنج<mark>اب</mark> کے بڑے بڑے مخلصوں کو بھی شرمندہ ہونا پڑتا ہے ۷۶ سچائی پر اپنی جان قربان کی اور ہماری جماعت کے لئے ایک ایسا نمونہ چھوڑ گیا جسکی پ<mark>اب</mark>ندی اصل منشاء خدا ہے ۴۷ شہید مرحوم نے مرکر میری جماعت کو ایک نمونہ دیا ہے اور درحقیقت میری جماعت ایک بڑے نمونہ کی محتاج تھی ۵۷،۵۸ جس طرز سے انہوں نے میری تصدیق کی اور مرنا قبول کیا اس قسم کی موت اسلام کے تیرہ سو برس میں بجز نمونہ صح<mark>اب</mark>ہؓ کے اور کہیں نہیں پاؤگے ۴۶ آپ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کا منظوم فارسی کلام آں جواں مرد وحبیب کردگار ۶۰تا۶۲ اے عبداللطیف تیرے پر <mark>ہزار</mark>وں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا ۶۰ آپ کے بیوی بچوں کو خوست سے گرفتار کر کے بڑی ذلت اور عذ<mark>اب</mark> کے ساتھ کسی اور جگہ حراست میں بھیجا گیا ۵۵ میاں احمد نور شاگرد خاص شہزادہ صاحب کے بیان کردہ حالات مندرجہ تذکرۃ الشہادتین ۱۲۶ عبداللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے والد ماجد ۴۹۳ عبداللہ آتھم دیکھئے ’’آتھم‘‘ عبداللہ خان <mark>اب</mark>ن حضرت نو<mark>اب</mark> <mark>محمد</mark> علی خان حضور ؑ کی دعا سے بیماری سے شفا ۱۹۳ عثمان غنی رضی اللہ عنہ ۲۹۴ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ۲۹۴ علی <mark>محمد</mark> ملاں، ساکن قادیان ایک مخالف سلسلہ بلکہ ایک نہایت خبیث مخالف ک<mark>اب</mark>ھائی ہے ۴۳۲ عمربن خط<mark>اب</mark> رضی اللہ عنہ ۲۹۴ آپ سے کسی نے پوچھا کہ قبل از اسلام آپ بڑے غصہ ور تھے آپ نے فرمایا کہ غصہ تو وہی ہے البتہ پہلے بے ٹھکانے چلتا تھا مگر <mark>اب</mark> ٹھکانے سے چلتا ہے ۴۸۷ آنحضور ؐ کی وفات پر تلوار میان سے نکال لی کہ اگر کوئی آپ ؐ کو مردہ کہے گا تو میں اس کا <mark>سر</mark> جدا کردوں گا ۲۶۱ عیسیٰ علیہ السلام ۱۴،۱۵،۱۸،۷۰،۷۱،۱۲۱،۲۰۵،۲۱۵، ۲۱۶،۲۱۹،۲۴۶،۲۵۶،۲۵۷،۲۶۱،۲۶۳،۲۶۴،۲۶۶، ۳۰۵،۳۳۶ح،۳۴۹،۳۵۵،۳۵۶،۳۷۱،۳۷۸، ۳۸۱ح،۳۸۲ح،۳۸۳ح،۳۸۶ح،۳۸۸،۴۱۱،۴۳۱، ۴۳۲،۴۴۶،۴۵۱،۴۷۰،۴۷۲ قرآن شریف کا حضرت عیسیٰ پر احسان جو ان کی نبوت کا اعلان فرمایا ۳۵۸ ہم حضرت عیسیٰ کی عزت کرتے ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ کا <mark>نبی</mark> سمجھتے ہیں ۳۳۶ حضرت مسیح ؑ <mark>نبی</mark> تھے اور ان کامل بندوں میں سے تھے جن کو خدا نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا ۱۶۵ آپ صلح کے <mark>نبی</mark> تھے ۲۷ مذہبی پہلو سے حضرت عیسیٰ کی سولہ خصوصیتیں ۲۵ حضرت مسیح موعود ؑ کی حضرت عیسیٰ سے سولہ مش<mark>اب</mark>ہتیں ۳۱ ا<mark>سر</mark>ائیلی خلیفوں میں حضرت عیسیٰ ایسے خلیفے تھے جنہوں نے نہ تلوار اٹھائی اور نہ جہاد کیا ۲۱۴ حضرت عیسیٰ پورے طورپر بنی ا<mark>سر</mark>ائیل میں سے نہ تھے ۲۱۵ آپ نے ایک ا<mark>سر</mark>ائیلی فاضل سے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا اور طالمود کا مطالعہ کیاتھا ۳۵۷ پروٹیسٹنٹس کا خیال ہے کہ پندرہویں صدی موسوی کے چند سال گزر گئے تھے جب حضرت عیسیٰ نے دعویٰ نبوت کیا ۱۳ ان کے چاربھائی اوردوہمشیرگان تھیں ۲۵