تجلیاتِ الہٰیہ — Page 446
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۴۲ قادیان کے آریہ اور ہم ☆ اس سے انکار کر سکے ہیں یہ چند پیشگوئیاں بطور نمونہ میں اس وقت پیش کرتا ہوں اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ سب بیان صحیح ہے اور کئی دفعہ لالہ شرمیت سن چکا ہے اور اگر میں نے جھوٹ بولا ہے تو خدا مجھ پر اور میرے لڑکوں پر ایک سال کے اندر اس کی سزا نازل کرے آمین ۔ ولعنة الله علی الکاذبین ۔ ایسا ہی شرمیت کو بھی چاہیے کہ وہ بھی میری اس قسم کے مقابل پر قسم کھاوے اور یہ کہے کہ اگر میں نے اس قسم میں جھوٹ بولا ہے تو خدا مجھ پر اور میری اولاد پر ایک سال کے اندر اس کی سزا وارد کرے۔ آمین ۔ ولعنة الله على الكاذبين * یہ تو شرمیت کی نسبت لکھا گیا اور ملا وامل اس کا دوست بھی اس میں شریک ہے اس کو چاہیے کہ اس بات کی قسم کھاوے کہ کیا میرے والد صاحب کی وفات کے بعد الہام الیس اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ مُہر پر کھدوانے کے لئے اُس کو امرتسر میں نے نہیں بھیجا تھا ؟ اور کیا پانچ ۳۷ روپیہ اجرت دے کر وہ مہر نہیں لایا تھا اور کیا اس زمانہ میں اس عروج اور شان و شوکت اور رجوع خلائق کا نام و نشان تھا ؟ اور کیا یہ تمام پیشگوئی اس کو نہیں بتائی گئی تھی ؟ جس کے لئے وہ بھیجا گیا تھا یعنی اس کو یہ بتایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو یہ خبر ملی تھی کہ شنبہ کے روز آفتاب کے غروب کے بعد میرا والد فوت ہو جائے گا اور تجھے کچھ غم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ میں تیرا متکفل رہوں گا اور تیری حاجات پوری کرنے کے لئے میں کافی ہوں گا اور یہ تخمیناً پینتیس یا چھتیس برس کا الہام ہے جبکہ میں زاویہ گمنامی میں یہ پیشگوئی نہ صرف کتاب مواہب الرحمن میں بلکہ اخبار الحکم اور البدر میں بھی وقوع سے پہلے شائع کی گئی تھی۔ منہ یہ بددعا کا فقرہ اس امر سے لازم ملزوم ہے کہ میری اس دعا کے مقابل پر شرمیت بھی اپنی نسبت انہیں الفاظ کے ساتھ بد د عا طبع کرا کر کسی اخبار میں شائع کرادے۔ منہ