تجلیاتِ الہٰیہ — Page 316
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۱۲ رساله الوصیت پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے فرمایا گیا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ) اور جن کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اُن - اُن کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمد یہ ناقص اور نا تمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت پانچ کے فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہرتی تھی ۔ اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا تھا اُس کا سکھلانا بھی عبث ٹھہرتا تھا مگر اس کے دوسری طرف یہ خرابی بھی تھی کہ اگر یہ کمال کسی فرد اُمت کو براہ راست بغیر پیروی نور نبوت محمد یہ مل سکتا تو ختم نبوت کے معنے باطل ہوتے تھے پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مکالمہ مخاطبہ کاملہ تا مہ مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو فنافی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچ گئے اور کوئی حجاب درمیان نہ رہا اور اُمتی ہونے کا ۱۲ مفہوم اور پیروی کے معنے اتم اور اکمل درجہ پر ان میں پائے گئے ایسے طور پر کہ اُن کا وجود اپنا وجود نہ رہا بلکہ اُن کے محویت کے آئینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود منعکس ہو گیا اور دوسری طرف اتم اور اکمل طور پر مکالمہ مخاطبہ الہیہ نبیوں کی طرح اُن کو نصیب ہوا۔ پس اس طرح پر بعض افراد نے باوجود اُمتی ہونے کے نبی ہونے کا خطاب پایا کیونکہ ایسی صورت کی نبوت نبوت محمد یہ سے الگ نہیں بلکہ اگر غور سے دیکھو تو خود وہ نبوت محمد یہ ہی ہے جو ایک پیرا یہ جدید میں جلوہ گر ہوئی۔ یہی معنے اس فقرہ کے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے حق میں فرمایا کہ نَبِيُّ اللهِ - وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ یعنی وہ نبی بھی ہے اور امتی بھی ہے ورنہ غیر کو اس جگہ قدم رکھنے کی جگہ نہیں ۔ مبارک وہ جو اس نکتہ کو سمجھے تا ہلاک ہونے سے بچ جائے ۔ ال عمران :ااا الفاتحة : ٧،٦