تجلیاتِ الہٰیہ — Page xxvii
۷۔چشمۂ مسیحی یہ کتاب مارچ ۱۹۰۶ء کی تصنیف ہے۔حضور ع<mark>لی</mark>ہ الصلوٰۃ والسلام نے بانس بری<mark>لی</mark> کے ایک مسلمان کی ترغیب پر عیسائیوں کی مشہور کتاب ’’ینابیع ال<mark>اس</mark>لام‘‘ کا جواب تحریر فرمایا ہے۔ینابیع ال<mark>اس</mark>لام کے مصنف نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن کریم میں کوئی نئی تع<mark>لی</mark>م نہیں بلکہ آنحضرت ص<mark>لی</mark> اﷲ ع<mark>لی</mark>ہ وسلم نے (نعوذ باﷲ) گذشتہ انبیاء کی کتب مقدسہ سے سرقہ کرکے قرآن شریف کو مرتب کیا ہے۔حضور ع<mark>لی</mark>ہ السلام نے جواباً <mark>اس</mark> میں یہو<mark>دی</mark> علماء کے حوالوں سے یہ ثابت فرمایا ہے کہ انجیل لفظاً بلفظٍ طالمود سے نقل ہے۔ایک ہندو نے یہ ثابت کیا ہے کہ انجیل بدھ کی تع<mark>لی</mark>م کا سرقہ ہے اور خود یورپ کے عیسائی محققین نے لکھا ہے کہ انجیل کی بہت سی عبارتیں اور تمثی<mark>لی</mark>ں یوز آسف کے صحیفہ سے ملتی ہیں۔تو کیا اب مسیح کی تع<mark>لی</mark>مات کو بھی مسروقہ ہی قرار <mark>دے</mark> <mark>دی</mark>ا جائے۔حضور ع<mark>لی</mark>ہ السلام نے لکھا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا اگر کوئی حصہ ق<mark>دی</mark>م نوشتوں سے ملتا ہے تو یہ وح ئ الٰہی میں توارد ہے ورنہ آنحضرت ص<mark>لی</mark> اﷲ ع<mark>لی</mark>ہ وسلم تو محض اُمّی تھے اور عربی بھی نہیں پڑھ سکتے تھے چہ جائیکہ یونانی یا عبرانی۔قرآن کریم ایک زندہ معجزہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور <mark>اس</mark> میں جو گذشتہ خبریں اور قصّے ہیں وہ بھی <mark>اپنے</mark> <mark>اندر</mark> پیشگوئیوں کا رنگ رکھتے ہیں اور پھر <mark>اس</mark> کی فصاحت و بلاغت بھی ایسا معجزہ ہے کہ آج تک کوئی <mark>اس</mark> کی نظیر پیش نہیں کر سکا۔<mark>اس</mark> کے بعد حضور ع<mark>لی</mark>ہ السلام نے موجودہ عیسائیت کے عقائد تث<mark>لی</mark>ث ، الوہیت مسیح ؑ اورکفارہ وغیرہ کا رد پیش کیا ہے اور <mark>اس</mark>لام اور عیسائیت کی تع<mark>لی</mark>مات دربارہ عفو و انتقام کا موازنہ پیش فرمایا ہے۔چشمۂ مسیحی کے خاتمہ کے طور پر ایک رسالہ نجاتِ حقیقی کے نام سے شامل ہے جس میں حضور ع<mark>لی</mark>ہ السلام نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ عیسائیوں کے نز<mark>دی</mark>ک نجات کے معنے یہ ہیں کہ انسان گناہ کے مؤاخذہ سے رہائی پا جائے۔یہ محدود اور منفی معنے ہیں دراصل نجات <mark>اس</mark> دائمی خوشحا<mark>لی</mark> کے حصول کا نام ہے جو <mark>خدا</mark> تعا<mark>لی</mark>ٰ کی <mark>محبت</mark> اور معرفت اور تعلق سے حاصل ہوتی ہے۔معرفت کی بنیاد <mark>اس</mark> امر پر ہے کہ <mark>خدا</mark> تعا<mark>لی</mark>ٰ کی ذات اور صفات کا صحیح علم ہو۔عیسائیت کے عقائد تث<mark>لی</mark>ث اور الوہیت مسیح معرفت حقیقی کے خلاف ہیں۔حضور ع<mark>لی</mark>ہ السلام نے ثابت فرمایا ہے کہ عیسائیت کے موجودہ عقائد کا <mark>خدا</mark> کے نبی عیسیٰ بن مریم ع<mark>لی</mark>ہ السلام سے کوئی تعلق نہیں یہ سب پولوس کی ذہنی تخ<mark>لی</mark>ق ہیں۔