تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 31

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۱ تذكرة الشهادتين ضروری ہے تا اس میں اور حضرت عیسیٰ میں مشابہت تامہ ثابت ہو۔ پس اوّل موعود ہونے کی خصوصیت ہے۔ اسلام میں اگر چہ ہزار ہا ولی اور اہل اللہ گزرے ہیں مگر ان میں کوئی موعود نہ تھا۔ لیکن وہ جو مسیح کے نام پر آنے والا تھا وہ موعود تھا ۔ ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے کے پہلے کوئی نبی موعود نہ تھا صرف مسیح موعود تھا۔ دوئم۔ خصوصیت سلطنت کے برباد ہو چکنے کی ہے۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم سے کچھ دن پہلے اس ملک سے اسرائیلی سلطنت جاتی رہی تھی ایسا ہی اس آخری مسیح کی پیدائش سے پہلے اسلامی سلطنت بباعث طرح طرح کی بد چلنیوں کے ملک ہندوستان سے اُٹھ گئی تھی اور انگریزی سلطنت اس کی جگہ قائم ہوگئی تھی ۔ سوئم ۔ خصوصیت جو پہلے مسیح میں پائی گئی وہ یہ ہے کہ اس ۔ گئی وہ یہ ہے کہ اس کے وقت میں یہود لوگ بہت سے فر اسے فرقوں پر منقسم ہو گئے تھے اور بالطبع ایک حکم کے محتاج تھے تا ان میں فیصلہ کرے ایسا ہی آخری مسیح کے وقت میں مسلمانوں میں کثرت سے فرقے پھیل گئے تھے۔ چہارم خصوصیت جو پہلے مسیح میں تھی وہ یہ ہے کہ وہ جہاد کے لئے مامور نہ تھا۔ ایسا ہی آخری مسیح جہاد کے لئے مامور نہیں ہے اور کیونکر مامور ہو زمانہ کی رفتار نے قوم کو متنبہ کر دیا ہے کہ تلوار سے کوئی دل تسلی نہیں پاسکتا اور اب مذہبی امور کے لئے کوئی مہذب تلوار نہیں اُٹھاتا۔ اور اب زمانہ جس صورت پر واقع ہے خود شہادت دے رہا ہے کہ مسلمانوں کے وہ فرقے جو مہدی خونی یا مسیح خونی کے منتظر ہیں وہ سب غلطی پر ہیں۔ اور ان کے خیالات خدا تعالیٰ کی منشاء کے برخلاف ہیں اور عقل بھی یہی گواہی دیتی ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہوتا کہ مسلمان دین کے لئے جنگ کریں تو موجودہ وضع کی لڑائیوں کے لئے سب سے فائق مسلمان ہوتے وہی توپوں کی ایجاد کرتے وہی نئی نئی بندوقوں کے موجد ٹھہرتے اور انہیں کو فنون حرب میں ہر ایک پہلو سے کمال بخشا جاتا۔ یہاں تک کہ آئندہ زمانہ کے جنگوں کے لئے انہیں کو غبارہ بنانے کی سوجھتی اور وہی آب دوز کشتیاں جو ۳۰ پانی کے اندر چوٹیں کرتی ہیں بناتے اور دنیا کو حیران کرتے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ دن بدن عیسائی ان باتوں میں ترقی کر رہے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء نہیں ہے کہ لڑائیوں کے ذریعہ