تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 15

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۵ تذكرة الشهادتين میں کسی قوم یا جماعت کو ایک بُرے کام سے منع کرتا ہے یا نیک کام کے لئے حکم فرماتا ہے تو اُس کے علم قدیم میں یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ اس کے حکم کی مخالفت بھی کریں گے پس خدا تعالیٰ کا سورہ فاتحہ میں یہ فرمانا کہ تم دعا کیا کرو کہ تم وہ یہودی نہ بن جاؤ جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دینا چاہا تھا جس سے دنیا میں ہی اُن پر غضب الہی کی مار پڑی۔ اس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ مقدر تھا کہ بعض افراد اس اُمت کے جو علماء امت کہلائیں گے اپنی شرارتوں اور تکذیب مسیح وقت کی وجہ سے یہودیوں کا جامہ پہن لیں گے ورنہ ایک لغو دعا کے سکھلانے کی کچھ ضرورت نہ تھی یہ تو ظاہر ہے کہ علماء اس اُمت کے اس طرح کے یہودی نہیں بن سکتے کہ وہ اسرائیل کے خاندان میں سے بن جائیں اور پھر اس عیسی بن مریم کو جو مدت سے اس دنیا سے گزر چکا ہے سولی دینا چاہیں کیونکہ اب اس زمانہ میں نہ وہ یہودی اس زمین پر موجود ہیں نہ وہ عیسی موجود ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اس آیت میں ایک آئندہ واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور یہ بتلانا منظور ہے کہ اس اُمت : اُمت میں عیسی مسیح کے رنگ میں آخری زمانہ میں ایک شخص مسعود شخص مبعوث ہوگا اور اس کے وقت کے بعض علماء اسلام ان یہودی علماء کی طرح اس کو دکھ دیں گے جو عیسی علیہ السلام کو دکھ دیتے تھے اور ان کی شان میں بد گوئی کریں گے بلکہ احادیث صحیحہ سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہودی بننے کے یہ معنی ہیں کہ یہودیوں کے بداخلاق اور بد عادات علماء اسلام میں پیدا ہو جائیں گی اور گو بظاہر مسلمان کہلائیں گے مگر اُن کے دل مسخ ہو کر ان یہودیوں کے رنگ سے رنگین ہو جا ئیں ۔ گے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو دکھ دے کر مورد غضب الہی ہوئے تھے پس جبکہ یہودی یہی لوگ ۱۳ بنیں گے جو مسلمان کہلاتے ہیں تو کیا یہ اس امت مرحومہ کی بے عزتی نہیں کہ یہودی بننے کے لئے تو یہ مقرر کئے جائیں مگر مسیح جو ان یہودیوں کو درست کرے گا وہ باہر سے آوے یہ تو قرآن شریف کے منشاء کے سراسر بر خلاف ہے۔ قرآن شریف نے سلسلہ محمد یہ کو ہر یک نیکی اور بدی میں سلسلہ موسویہ کے مقابل رکھا ہے نہ صرف بدی میں ۔ ماسوا اس کے آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا صریح یہ منشاء ہے کہ وہ لوگ یہودی اس لئے کہلائیں گے کہ خدا کے مامور کو جوان کی اصلاح کے لئے آئے گا بنظر تحقیر و انکار دیکھیں گے اور اس کی تکذیب کریں گے اور اس کو قتل کرنا ا الفاتحة :