تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 74

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۷۴ تذكرة الشهادتين اچھا نہیں ہوتا ۔ اور بہت امور ہیں جو تم چاہتے ہو کہ وہ واقع نہ ہوں حالانکہ اُن کا واقع ہونا تمہارے لئے اچھا ہوتا ہے اور خدا خوب جانتا ہے کہ تمہارے لئے کیا بہتر ہے مگر تم نہیں جانتے اس تمام وحی الہی میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ صاحبزادہ مولوی عبداللطیف مرحوم کا اس بے رحمی سے مارا جانا اگر چہ ایسا امر ہے کہ اس کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے ( و ما رئينا ظلما اغيظ من هذا ) لیکن اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہوں گے اور کابل کی زمین دیکھ لے گی کہ یہ خون کیسے کیسے پھل لائے گا۔ یہ خون کبھی ضائع نہیں جائے گا۔ پہلے اس سے غریب عبدالرحمن میری جماعت کا ظلم سے مارا گیا اور خدا چپ رہا مگر اس خون پر اب وہ چپ نہیں رہے گا اور بڑے بڑے نتائج ظاہر ہوں گے۔ چنانچہ سنا گیا ہے کہ جب شہید مرحوم کو ہزاروں پتھروں سے قتل کیا گیا تو انہیں دنوں میں سخت ہیضہ کابل میں پھوٹ پڑا اور بڑے بڑے ریاست کے نامی اس کا شکار ہو گئے اور بعض امیر کے رشتہ دار اور عزیز بھی اس جہان سے رخصت ہوئے مگر ابھی کیا ہے یہ خون بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا گیا ہے اور آسمان کے نیچے ایسے خون کی اس زمانہ میں نظیر ملے گی ۔ ہائے اس نادان امیر - امیر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بے دردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا ۔ اے کابل کی زمین تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔ اے بد قسمت زمین تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔ نہیں ایک جدید کرامت مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم کی جب میں نے اس کتاب کو لکھنا شروع کیا تو میرا ارادہ تھا کہ قبل اس کے جو ۱۶ راکتو بر ۱۹۰۳ء ۷۳ کو بمقام گورداسپورا ایک مقدمہ پر جاؤں جو ایک مخالف کی طرف سے فوجداری میں میرے پر دائر ہے یہ رسالہ تالیف کرلوں اور اس کو ساتھ لے جاؤں تو ایسا اتفاق ہوا کہ مجھے درد گردہ سخت پیدا ہوا۔ میں نے خیال کیا کہ یہ کام نا تمام رہ گیا صرف دو چار دن ہیں۔ اگر میں اسی طرح درد گردہ میں مبتلا رہا جو ایک مہلک بیماری ہے تو یہ تالیف نہیں ہو سکے گا تب خدا تعالیٰ نے مجھے دعا کی طرف توجہ دلائی۔ میں نے رات