سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 71

روحانی خزائن جلد ۲ ۵۹ سرمه چشم آریہ ایک حصہ ہے جس کو ہم نے جلسہ بحث گیارہویں مارچ ۱۸۸۶ء میں ماسٹر صاحب کے جواب الجواب کے رڈ میں لکھنا چاہا تھا مگر بوجہ عہد شکنی ماسٹر صاحب اور چلے جانے ان کے اور برخاست ہو جانے جلسہ بحث کے لکھ نہ سکے نا چا ر حسب وعدہ اب لکا اب لکھنا پڑا۔ سو کچھ اس میں سے اس جگہ اور کچھ جیسا کہ مناسب محل و ترتیب ہوگا بعد میں لکھیں گے۔ وما توفیقی إلا بالله هو نعم المولى ونعم النصير۔ مقدمه ماسٹر صاحب نے اسلام کے عقیدہ پر شق القمر کا اعتراض پیش کیا ہے اور اس اعتراض سے ان کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ آج کل کے نو تعلیم یافتہ لوگ انگریزی فلسفہ کے پھیلنے کی وجہ سے ان سب عجائبات سماوی و ارضی کو قانونِ قدرت کے بر خلاف سمجھتے ہیں جن پر ان کی عقل محیط نہیں ہو سکتی اور جن کو انہوں نے نہ بچشم خود دیکھا اور نہ اپنے فلسفہ کی کتابوں میں اس کا اثر یا نشان پایا اس لئے ماسٹر صاحب نے یہ اعتراض پیش کر دیا تا فلسفی طبع لوگ جن کے دل و دماغ پر خیالات فلسفہ غالب آ رہے ہیں۔ خواہ نخواہ شق القمر کے محال ہونے میں ان کے ساتھ ہاں کے ساتھ ہاں ملائیں اور گوان کی بات کیسی ہی ادھوری اور بودی ہو مگر پنچایت کے اتفاق سے کچھ آب و رنگ لے آوے۔سو بقیه حاشیه کہا کہ اگر آپ اس و لر آپ اس وقت کسی نوع سے ٹھہرنا مصلحت نہیں سمجھتے تو یا تو میں دو روز اور اس جگہ ہوں اور اپنا دن رات اسی خدمت میں صرف کر سکتا ہوں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ فرصت نہیں۔ اخیر پر ہم یہ بھی ظاہر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب جو کچھ گھر پر جا کر لکھیں گے ہمیں کچھ اطلاع نہیں اس لئے ہم اس کی نسبت کچھ تحریر کرنے سے معذور ہیں۔ منہ