سُرمہ چشم آریہ — Page 426
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۱۲ شحنه حق اسی اشتک انو کا ۴ سکت (۱) صفحہ ۵۷ میں یہ شرتی ہے اے اگنی جو کہ دولکڑیوں کے باہم رگڑنے سے پیدا ہوتی ہے اس پاک کٹی ہوئی کشا پر دیوتاؤں کو لا تو ہماری جانب سے اُن کا بلانے والا ہے اور تیری پرستش ہوتی ہے ۔ اب آریوں کو سوچنا چاہیے کہ کیا پر میشر دو لکڑیوں کے رگڑنے سے پیدا ہوتا ہے کیا اس سے کھلا کھلا کوئی اور نشان بھی ہوگا کہ شاعر نے لکڑیوں کا بھی ذکر کر دیا جو آگ کے بھڑ کنے کا موجب ہے ۔ پھر اگر اس شرقی پر بھی اعتبار نہ ہو تو ایک اور شرتی ذیل میں لکھی جاتی ہے اس کو پڑھو اور کچھ انصاف کرو اور وہ یہ ہے ۔ اے اگنی نیک کاموں کو ترقی دینے والی جن دیوتاؤں کی ہم پوجا کرتے ہیں اُن کو مع اُن کی استریوں کے شریک کر اے روشن زبان والی انہیں سوم کا رس پینے کو دے ۔ دیکھو اشتک اول انو کا ۴ سکت ۳ ۔ دیکھو اس جگہ بھی شاعر نے با عتبار چمک کے اگنی کو روشن زبان کہا اور اس کا کام یہ بتلایا کہ وہ دوسرے دیوتاؤں کو اور نیز ان کی عورتوں کو سوم کا رس پلاتی ہے پس آگ کو اس کی بخار انگیزی کی وجہ سے دیوتاؤں کے ساقی خیال کیا گیا ۔ اب سو چو کیا یہ پرمیشور ہونے کے لچھن ہیں پھر اگر یہ شرتی بھی دل کا دھڑ کا دور نہ کر سکے تو لیجئے ایک اور شرقی آپ کی نذر ہے ۔ اے اگنی دیوتا اپنی چالاک اور طاقت ور گھوڑیاں جن کو بنام روہت نا مزد کرتے ہیں اپنی رتھ میں جوت اور ان کے وسیلہ