سُرمہ چشم آریہ — Page 395
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۸۱ شحنه حق نمبر نام آریہ // کس الہام یا کشف کا گواہ ہے۔ وہی آریہ پُر خوف افواہیں اڑ رہی تھیں یہاں تک کہ اس کے پھانسی مل ۴۲) جانے کا بعضوں کو خطرہ تھا۔ سواگر اس گواہ کے نزدیک یہ بیان صحیح نہیں ہے تو اس کو چاہیے کہ جلسہ مجوزہ میں اس مضمون کی قسم کھاوے کہ میں اپنے پر میشر کو حاضر ناظر جان کر سچے دل سے اس کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ پیشگوئی ہرگز مجھ کو نہیں بتلائی گئی اور اگر بتلائی گئی ہو اور میں نے جھوٹ بولا ہے تو اے سرب شکتی مان پر میشر مجھ پر اور میرے عیال پر کسی دکھ کی مار سے اپنی تنبیہ نازل کر۔ لاله ملا وائل ملا وامل کو دق کی بیماری ہوگئی جب وہ خطرہ کی حالت میں پڑ گیا تو کھتری ساکن اس کے لئے دعا کی گئی الہام ہوا قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا یعنی اے تپ کی آگ ٹھنڈی ہو جا۔ پھر خواب میں دکھایا گیا کہ میں نے اس کو قبر سے نکال لیا ہے یہ الہام اور خواب دونوں قبل از وقوع اس کو بتلائے گئے چنانچہ چند ہفتہ کے بعد اس کو شفا ہوگئی پھر ایک دن صبح کو الہام ہوا کہ آج ارباب لشکر خان کے قرابتیوں میں سے کسی کا روپیہ آئے گا آزمائش کے طور پر یہی آریہ صاحب ڈاک خانہ میں گئے اور دس روپیہ آنے کی خبر لائے۔ جوار باب سرور خان لشکر خان کے بیٹے قادیان نے بھیجے تھے اگر یہ بیان سچ نہیں ہے تو ملا وامل کو چاہئے کہ جلسہ مجوزہ میں اس مضمون کی قسم کھاوے کہ میں اپنے پر میشر کو حاضر ناظر جان کر سچے دل سے اس کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ دونوں قسم کی پیشگوئیاں ہرگز مجھ کو نہیں بتلائی گئیں اور اگر بتلائی گئی ہوں اور میں نے جھوٹ بولا ہے تو اسے سرب شکتی مان پرمیشر مجھ پر اور میرے عیال پر