سُرمہ چشم آریہ — Page 305
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۹۳ سرمه چشم آریه سیرت و صفت ہونی چاہیے؟ دیکھو اس کے مقابل پر کیا ہی سچا اور پر صداقت (۲۳۳) و انصاف قول ہے جو قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ لے یعنی کوئی ملک آباد نہیں جس میں پیغمبر اور مصلح نہیں گزرا۔ اور نیز فرماتا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا یعنی عادت اللہ قدیم سے یہی جاری ہے کہ جب زمین مرجاتی بقيه حاشیه یہ بات نہایت صاف طور پر ظاہر ہے کہ جس طرح نوکروں کے آنے اور بیٹے کے ۲۴۳ آنے سے مراد وہ نبی تھے۔ جو وقتاً فوقتاً آتے گئے اسی طرح اس تمثیل میں مالک باغ کے آنے سے بھی مراد ایک بڑا نبی ہے جو نوکروں اور بیٹے سے بڑھ کر ہے جس پر تیسرا درجہ قرب کا ختم ہوتا ہے وہ کون ہے؟ وہی نبی ہے جس کا اسی انجیل متی میں فارقلیط کے لفظ سے وعدہ دیا گیا ہے اور جس کا صاف اور صریح نام محمد رسول اللہ انجیل برنباس میں موجود ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ مسیح جیسا ایک نبی قرب کے تینوں درجوں کے بیان کرنے میں صرف دو ٹکرے اس میں سے بیان کر کے رہ جائے اور تیسرے ٹکرہ کے مصداق کی طرف کچھ بھی اشارہ نہ کرے۔ بے شک ہر یک عاقل اس پیشگوئی پر غور کر کے یہ یقین کامل سمجھ لے گا کہ یہ تین تمثیلیں تینوں قسم کے نبیوں کی طرف اشارات ہیں اور خود تین قسم کا قرب ایک ایسی ضروری اور شان دار صداقت ہے کہ بجز اس خاص شخص کے جس کی عقل کو طوفان تعصب بکلی تحت الثرا میں لے گیا ہو ہر یک فرقہ اور قوم کا آدمی معارف یقینیہ سے سمجھتا ہے۔ اور یہ بات کہ کیونکر اور کس طرح معلوم ہوا کہ انسان کامل جو سب کاملین سے اکمل اور مظہر اتم مراتب الوہیت اور حقیقی طور پر درجہ سوم قرب سے ممتاز ہے وہ در حقیقت تمام بنی آدم میں سے ایک ہی ہے جو حضرت سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ فاطر: ۲۵ ۲ الحديد : ۱۸